حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 283 of 923

حیاتِ خالد — Page 283

حیات خالد 282 بلاد هر بی میں تبلیغ اسلام بے بضاعتی اور کم علمی کو دیکھتا تھا اور محترم مولانا مرحوم کی شاندار علمی خدمات پر نظر ڈالتا تھا تو مجھے خوف محسوس ہوتا تھا کہ میں کس طرح ان کی قائم مقامی کا حق ادا کر سکوں گا لیکن اس خیال سے کہ خلیفہ وقت ایدہ اللہ بنصرہ کا انتخاب ہے آپ مجھے دعاؤں سے رخصت فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت ضرور حاصل ہوگی ، اطمینان تھا۔۱۳ اگست ۱۹۳۱ء تو روانگی کادن تھا س کی تیاری کیلئے کافی دنوں سے تگ و دو شروع تھی اسی دوران میں ایک دن بعض اشیاء کی خرید کیلئے لاہور گیا۔ان دنوں ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ لاہور میں کالج میں پڑھا کرتے تھے۔ان سے ابتداء سے ہی میرے مخلصانہ تعلقات تھے۔مسجد میں نماز جمعہ میں ملاقات ہوئی تو احمد یہ ہوٹل ساتھ لے گئے۔رات وہاں بسر ہوئی پر لطف گفتگو کے دوران ایک بات آپ نے یہ فرمائی کہ ہمارے مبلغین قادیان سے روانگی کے وقت روتے ہوئے رخصت ہوتے ہیں۔خدمت دین کیلئے جانے کی سعادت پر خوشی خوشی جانا چاہئے۔اسی سلسلہ میں مجھے کہا کہ میں آپ کی روانگی کے وقت وہاں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ آپ کسی حالت میں قادیان سے روانہ ہوتے ہیں۔جب روانگی کا دن (۱۳ را گست ۱۹۳۱ء ) آیا تو صبح سے ہی خاص کیفیت تھی ، دعاؤں کی طرف بہت توجہ تھی، مساجد میں اور متبرک مقامات پر جا کر دعا کی۔میری والدہ صاحبہ مرحومہ زندہ تھیں، بیوی اور بچے اور بھائی بہنیں بھی تھے سب سے مل کر رقت کی کیفیت میں ریلوے سٹیشن پر پہنچا۔احباب الوداع کہنے کیلئے موجود تھے۔ان دنوں خود سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بھی اپنے خدام کو جو تبلیغ دین کیلئے بیرونی ممالک میں جاتے تھے الوداع کہنے کیلئے اور ان کی واپسی پر انہیں خوش آمدید کہنے کیلئے از راہ شفقت و محبت ریلوے سٹیشن پر تشریف لاتے تھے جب ریل جاری نہ ہوئی تھی تو آپ قادیان کے مغربی جانب موڑ تک قریباً پون میل کے فاصلہ پر مبلغین سلسلہ کو رخصت فرماتے تھے۔۱۳؍ اگست ۱۹۳۱ء کو بھی حضور ریلوے سٹیشن پر تشریف فرما تھے آپ نے اپنی خاص دعاؤں کے ساتھ اس خادم کو الوداع فرمایا۔مجھے محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی بات یاد تھی چنانچہ میں نے عزم کر رکھا تھا کہ شیشن پر آنکھوں میں آنسو نہ آئیں۔اس میں مجھے قدرے کامیابی حاصل ہوئی۔مجھے یاد ہے کہ ریل کی معین روانگی کے وقت ملنے والے آخری ملخص محترم صاحبزادہ صاحب تھے۔انہوں نے معانقہ کرتے ہوئے میرے کان میں کہا کہ بڑے پکے نکلے ہو ، روئے نہیں ہو۔گاڑی جونہی قادیان کے گرد گھومتی ہوئی روانہ ہوئی اور جدائی کا پورا تصور سامنے آیا تو جذبات