حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 257 of 923

حیاتِ خالد — Page 257

حیات خالد 263 اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے کلام سے نوازا اور تائید و نصرت کی خوش خبری عطا فرمائی۔0 مناظرات کے میدان میں محترم چوہدری عبد القدیر صاحب ناظر بیت المال خرج و افسر لنگر خانہ قادیان اپنے خط محروه ۲۶ اکتوبر ۱۹۸۲ء میں لکھتے ہیں۔ایک بار آپ کی مجلس میں چنیوٹ کے قریب واقع " جامعہ کے چند طلباء اور دو اساتذہ آگئے۔اساتذہ وطلباء نے سوالات شروع کئے۔حضرت مولانا جواب دیتے رہے۔آخر ایک سوال پر کہ نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا۔حضرت مولانا صاحب نے فرمایا کہ یہ درست نہیں۔انہوں نے ثابت کرنے پر اصرار کیا۔حضرت مولانا نے بتایا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جرہم قبیلے سے عربی سیکھی تھی۔اس کی سند کا مطالبہ ہوا تو محترم حکیم مولوی خورشید احمد صاحب مصر کی طبع شدہ حدیث بخاری شریف کی ایک جلد لے آئے اور اس میں مکہ شریف کی آبادی والی طویل حدیث میں لکھا دکھا دیا کہ جرہم قبیلہ والوں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عربی سیکھی۔اس پر وہ سارے مہمان سکتے میں آگئے۔پھر وہ کہنے لگے کتاب دکھا ئیں۔کتاب دیکھی، ٹائیٹل دیکھا۔مطبع دیکھا۔پھر صفحات چیک کئے۔بالآخر جب سب طرح سے حوالہ صحیح نظر آیا تو کہنے لگے یہ ہمارے لئے ایک نئی حقیقت ہے اور کہا کہ وہ پھر آئیں گے اور اس حوالہ پر پھر بات کریں گے۔دو سال کے بعد میں حضرت مولانا سے دوبارہ ملا تو ان صاحبان کے بارے میں استفسار کیا تو حضرت مولانا نے فرمایا کہ وہ لوگ واپس نہیں آئے“۔O میں لکھتے ہیں۔مکرم محمد یوسف صاحب صدر جماعت احمد یہ جموں اپنے خط محرره ۳ را کتوبر ۱۹۸۳ء ۱۹۴۷ء سے پہلے حضرت مولانا سری نگر، کشمیر تشریف لے جاتے رہے اس سلسلے میں چند واقعات قابل بیان ہیں۔پہلا واقعہ: ایک دفعہ کی بات ہے کہ چند احمدی احباب حضرت مولانا صاحب کے ساتھ پر تاپ باغ سری مگر گئے۔ایک ہندو ودوان (عالم) کھال پر بیٹھ کر بھاشن (لیکچر) دے رہے تھے۔انہوں نے گوشت خوری کے خلاف ایک کتاب کا حوالہ دیا۔حضرت مولانا نے فرمایا ایسا حوالہ اس کتاب میں موجود نہیں ہے۔ہندو دوست نے اصرار کیا کہ حوالہ موجود ہے۔حضرت مولانا نے ایک ساتھی کو کاغذ پر کتاب کا نام لکھ کر دیا کہ اگر یہ کتاب مل سکتی ہو تو بازار سے لے آئیں۔اتفاق سے مطلوبہ کتاب مل گئی۔حضرت مولانا نے متعلقہ حصہ پڑھ کر سنایا کہ اس کتاب میں وہ بات موجود نہیں ہے جو آپ بیان کر رہے