حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 247 of 923

حیاتِ خالد — Page 247

حیات خالد 253 مناظرات کے میدان میں مناظرات کی نمایاں خصوصیات حضرت مولانا ۱۹۲۷ء میں باقاعدہ مبلغ سلسلہ کے طور پر خدمت دین کے میدان میں آئے لیکن اس سے تین چار سال قبل طالب علمی کے دوران ہی آپ نے مختلف مذاہب کے علماء سے مناظروں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ان میں غیر مبائع علماء کے علاوہ عام غیر احمدی علماء اور آریہ ہندو اور عیسائی بھی شامل تھے۔پچھلے صفحات میں حضرت مولانا کے زندگی بھر کے مناظروں کا احاطہ کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔ان تفاصیل سے قارئین نے بہت کچھ اخذ کیا ہوگا۔تاہم ضروری محسوس ہوتا ہے کہ حضرت مولانا کے مناظروں کی بعض اہم خصوصیات کا تذکرہ اور تجزیہ کیا جائے تا کہ مستقبل کے مناظروں کو ایک کامیاب اور فتح نصیب مناظر بنے کا راستہ دکھایا جا سکے۔حاضر جوابی اور برجستگی فن مناظرہ کی جان ہے۔مخالف کی بے معنی گفتگو کا دوٹوک اور قطعی حاضر جوابی جواب دینا حاضرین کو فوراً متاثر کرتا ہے۔حضرت مولانا اپنی خدا داد ذہانت کے سبب اس فن میں طاق تھے۔مشہور معاند احمدیت مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب عمر میں حضرت مولانا صاحب سے کہیں بڑے تھے اس لئے ایک بار مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مولانا کو زچ کرنے کیلئے کہہ دیا۔"آپ" منڈے ہیں " ( یعنی کم عمر اور نادان ہیں )۔حضرت مولانا صاحب نے فوراً برجستہ جواب دیا۔ابو جہل کے قاتل بھی تو منڈے ( نوجوان لڑکے ) ہی تھے “۔(الفضل ۲۱ دسمبر ۱۹۲۸ء مباحثہ پٹھان کوٹ) آپ اندازہ فرما ئیں کہ یہ برمل اور برجستہ جواب سن کر مولوی ثناء اللہ صاحب کی کیا کیفیت ہوئی ہوگی۔یادر ہے کہ اس وقت مولانا ابوالعطاء صاحب کی عمر صرف ۲۴ سال اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی عمر ۶۰ سال کے لگ بھگ تھی۔اس مباحثے میں ایک اور موقع بھی ایسا آیا کہ جب حضرت مولانا صاحب کی زبر دست حاضر جوابی سے مولوی کرم دین صاحب ساکن بھیں پر سکتہ طاری ہو گیا۔جب ان سے دلائل بن نہ پڑے تو کہنے لگے۔آتما رام ( مجسٹریٹ ) مرزا صاحب کو چار چار گھنٹے پانی نہ پینے دیتا تھا۔یہ مرزا صاحب کی بڑی بے عزتی تھی۔حضرت مولانا صاحب نے فوراً فی البدیہہ جواب دیا۔