حیاتِ خالد — Page 242
حیات خالد 248 مناظرات کے میدان میں کے ہاں لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوں تو یہ مدعا پورا نہیں ہوتا۔جس سے ظاہر ہے کہ آریہ دھرم نے عورت کو کوئی پوزیشن نہیں دی اور نہ لڑکیوں کو اولاد میں شامل سمجھا ہے۔علاوہ ازیں مندرجہ ذیل تعلیم پر غور کرنے سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آریہ دھرم میں عورت کو کیا مقام دیا گیا ہے۔ا۔جولوگ دنیوی چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں وہ عورت کا جنم پاتے ہیں۔۲۔نیوگ سے پیدا شدہ لڑکے جائیداد کے وارث ہوتے ہیں۔لیکن لڑکی وارث نہیں ہو سکتی۔- پتر اس کو کہتے ہیں جو ٹرک سے بچاتا ہے۔ہمیشہ لڑکی باپ کے ، بیوی شوہر کے اور ماں بیٹے کے تابع رہے۔عورت کبھی خود مختار نہ رہے۔- عورت کیلئے نہ کوئی ملکیت ہے اور نہ قانو نا وہ جائیداد کی وارث ہے۔عورت مرد کا چھوڑا کبھی نہیں ہو سکتا اور بیا ہی عورت اور مرد کا تعلق دونوں کی موت تک رہتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ مرد کتنا ہی ظلم روا ر کھے اور عورت کتنی ہی مظلوم کیوں نہ ہو۔آریہ وہرم کے مطابق اس بے چاری کی رہائی اور مخلصی کی کوئی صورت نہیں ہے۔پنڈت جی نے ان واضح اور صاف مطالبات کا جواب تو کیا دینا تھا۔آریہ پنڈت کا جواب پہلے ادھر اُدھر کی باتوں سے اصل سوالات کو ٹالتے رہے لیکن بار بار تقاضا کرنے پر بڑے جوش میں کہنے لگے۔خاندان ہمیشہ لڑکے سے چلتا ہے لڑکی سے کبھی خاندان نہیں چلا کرتا اس لئے نسل کو قائم رکھنے کیلئے اور خاندان چلانے کیلئے ضروری ہے کہ اگر کسی کے ہاں لڑکا نہ ہو تو نیوگ کے ذریعہ لڑکا حاصل کیا جائے۔ورنہ نسل اور خاندان کے منقطع اور ہر بار ہو جانے کا اندیشہ لازم آتا ہے۔وراثت وغیرہ کے لئے کہا کہ ویدوں میں اس کی تفصیل نہیں ہے۔یہ رشیوں کا کام ہے کہ وہ بتائیں کہ جائیداد کس طرح تقسیم ہو۔نیز کہا کہ تعدد ازدواج اور طلاق کے مکروہات اور خرابیاں نیوگ سے بہت زیادہ ہیں۔جناب مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ پنڈت جی نے اس احمدی مناظر کی تقریر جواب پر بہت ناز کیا ہے۔کہ نسل اور خاندان کو قائم رکھنے کیلئے لڑکے کا ہونا ضروری ہے کیونکہ نسل لڑکی سے نہیں چلا کرتی بلکہ لڑکے سے چلتی ہے۔حالانکہ یہ جواب بالکل فضول ہے۔فرض کرو کہ نتھو رام کے لڑکا پیدا نہیں ہوتا۔اب نسل قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ نتھو رام کی بیوی نیوگ کے ذریعہ لڑکا حاصل کرے وہ کھڑک سنگھ سے نیوگ کرتی ہے اور اس سے لڑکا پیدا ہو جاتا ہے۔