حیاتِ خالد — Page 229
حیات خالد 235 مناظرات کے میدان میں آکر مجھے کہنے لگے آپ اس وقت تحریر کا مطالبہ نہ کریں۔فساد ہو جانے کا اندیشہ ہے۔بالآخر میں نے اتمام حجت کیلئے ایک معزز غیر احمد کی بابو عبد الستار صاحب کے ہاتھ مندرجہ ذیل تحریر بھیج دی۔ہیں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار سے جو تبلیغ رسالت میں شائع ہو چکا ہے دکھاؤ نگا کہ آپ نے لکھا ہے کہ احمد بیگ نکاح کے بعد تین سال بلکہ قریب عرصہ میں مرجائے گا۔اگر میں کل مورخہ ۳ / مارچ ۱۹۴۱ء کو موضع فجو پورہ میں نہ دکھا سکا تو اپنے وعدہ میں جھوٹا ہوں گا۔خاکسار ابو العطاء جالندھری ۱۹۴۱-۳-۲ مگر با بوصاحب موصوف افسوس کرتے ہوئے واپس آئے اور کہا کہ وہ اب اس تحریر پر بھی فیصلہ کر نا نہیں چاہتے۔چنانچہ اس تحریر پر اپنا بیان ( یہ بیان ہمارے پاس محفوظ ہے بایں الفاظ لکھ دیا۔یہ اصل میں سید اولا و حسین صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب معمار کے پاس لے کر گیا لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور اس پر فیصلہ کرنا منظور نہیں کیا۔دستخط بحروف انگریزی با بوعبد الستار ۱۹۴۱-۳-۲ (۳) اس سارے واقعہ سے ظاہر ہے کہ اہل حدیث مناظر نے کھلے طور پر اپنے انعامی چیلینج سے یز کیا ہے اب میں پبلک کی آگاہی کیلئے زیر بحث حوالجات کے الفاظ ذیل میں شائع کرتا ہوں : (۱) '' ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا“۔( تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۶۱ ) (۲) تین سال تک فوت ہونا روز نکاح کے حساب سے ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آوے۔بلکہ مکاشفات کے رو سے مکتوب الیہ کا زمانہ حوادث جس کا انجام معلوم نہیں نزدیک پایا جاتا ہے۔واللہ اعلم۔( حاشیہ اشتہارہ ار جولائی ۱۸۸۸ء) یہ حوالہ جات ہمارے دعوئی کو بالصراحت ثابت کر رہے ہیں۔یہ اتنی واضح بات ہے کہ منشی محمد یعقوب صاحب پٹیالوی غیر احمدی نے بھی لکھا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے مرزا احمد بیگ کو کہا تھا کہ : اس صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے جن کا نتیجہ تمہاری موت ہوگا۔پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے بلکہ تمہاری موت قریب ہے۔(رسالہ تحقیق لاثانی صفحه ۱۳۴)