حیاتِ خالد — Page 155
حیات خالد 161 مناظرات کے میدان میں والی نبوت مراد ہے۔جیسا کہ حضور نے خود ایک غلطی کا ازالہ میں اس کی تصریح فرما دی ہے اور خاتم النبیین کے دوسرے پہلو کے متعلق خود لکھا ہے۔(الف) " افسوس کہ حال کے نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی ختم نبوت کے صحیح معانی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھو کر کھائی۔وہ ختم نبوت کے ایسے معنے کرتے ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کی ہجو نکلی ہے نہ تعریف۔گویا آنحضرت مے کے نفس پاک میں افاضہ اور تکمیل نفوس کیلئے کوئی قوت نہ تھی اور وہ صرف خشک شریعت سکھلانے آئے تھے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو یہ دعا سکھلاتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ انْعَمْتَ عَلَيْهِم پس اگر یہ اُمت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو یہ دعا کیوں سکھلائی گئی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۴ حاشیه ) (ب) وَقَدْ خُتِمَتِ النُّبُوَّةُ عَلَى نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَبِيَّ بَعْدَهُ إِلَّا الَّذِي نُورَ بِنُورِهِ وَجُعِل وَارثَهُ مِنْ حَضْرَةِ الكِبْرِيَاءِ (خطبہ الہامیہ: صفحہب: حاشیہ) میں نے خاتم النملین کے معنوں کی وضاحت کیلئے ختم نبوت اور مولوی محمد علی صاحب مولوی محمد علی صاحب کا حسب ذیل حوالہ بھی پیش کیا تھا جس میں لکھا ہے۔" یہ سلسلہ کے معنوں میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتا ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ کوئی نبی خواہ وہ پرانا ہو یا نیا آپ کے بعد ایسا نہیں آسکتا جس کو نبوت بدوں آپ کے واسطے مل سکتی ہو۔آنحضرت ﷺ کے بعد خداوند تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دیئے۔مگر آپ کے متبعین کامل کیلئے جو آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کے اخلاق کامل سے ہی نور حاصل کرتے ہیں ان کیلئے یہ دروازہ بند نہیں ہوا کیونکہ وہ گویا اسی وجود مطہر اور مقدس کے عکس ہیں۔البتہ آپ کے بعد شریعت کوئی نئی نہیں آسکتی۔ریویو۔اُردو جلد ۵ صفحه ۱۸۶) پھر میں نے خاتم النہین کے معنی سمجھانے کیلئے بار بار خاتم الخلفاء کی نظیر پیش کی مگر میر صاحب نے اس طرف توجہ تک نہ فرمائی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ جناب مولوی محمد علی صاحب نے تحریر فرمایا ہے۔سلسلہ محمدیہ علیہ کا خاتم الخلفاء ان معنوں سے نہیں ہو سکتا کہ اس کے بعد کوئی خلیفہ نہ آئے بلکہ