حیاتِ خالد — Page 14
حیات خالد الله 14 خلفائے احمدیت کے مبارک ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات حضرت مولانا کی وفات پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب وفات کے بعد تعزیتی خط رحمہ اللہ ) نے ۱۳ جون ۱۹۷۷ء کو حضرت مولانا کے صاحبزادے مکرم عطاء المجیب صاحب را شد امیر و مبلغ انچارج جاپان کے نام تعزیتی محلہ میں تحریر فرمایا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پیارے برادرم عزیزم عطاء المجیب راشد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته ابھی ابھی آپ کا خط ملا جس نے حضرت مولوی صاحب کی جدائی کے صدمہ کو اس شدت سے زندہ کیا کہ جذبات بے قابو ہو گئے۔ہر روز دل کڑا کر کے آپ کو اور دیگر عزیز ان کو تعزیت کا خط لکھنے کی سوچتا ہوں لیکن ہمت نہیں پڑتی۔آج آپ کے محلہ نے یہ جھجک تو ڑ دی تو چند سطور لکھنے کی جرات کر رہا ہوں۔آپ جانتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب سے مجھے کتنی گہری محبت تھی، ایک قلبمی روحانی اور فکری لگاؤ تھا۔ان کا اچانک رخصت ہو جانا دل میں گہرا گھاؤ ڈال گیا ہے۔یہ زخم مندمل ہونے میں وقت لے گا مگر نشان چھوڑ جائے گا۔آج دفتر آتے ہوئے سارا رستہ حضرت مولوی صاحب کے بارہ میں ہی سوچتا رہا۔گول بازار پہنچا تو چوہدری فضل احمد صاحب کار پر تشریف لا رہے تھے۔اس نظارہ نے دل کے درد کو دہ چند کر دیا۔ایک لمبے عرصہ سے حضرت مولوی صاحب چوہدری فضل احمد صاحب کے ساتھ ہی دفتر تشریف لایا کرتے تھے ان دونوں بزرگوں کی یہ جوڑی بہت پیاری معلوم ہوتی تھی۔دیکھ کر نظر اور دل کو طراوت پہنچتی تھی۔اللہ تعالٰی حضرت مولوی صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔اور تمام اولاد در اولاد در اولاد کو نسلاً بعد نسل حضرت مولوی صاحب کی نیکیوں اور دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کا فیض پہنچتا ر ہے۔حضرت مولوی صاحب مجھ پر ہمیشہ خاص شفقت فرمایا کرتے جو دل پر گہرا اثر کرتی۔اپنی اولاد میں سے آپ کے ساتھ ان کو خاص تعلق تھا۔ہم کئی مرتبہ آپ کا ذکر کیا کرتے تو فرط محبت سے حضرت مولوی صاحب کی آنکھیں آبدار ہو جاتیں اور بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے۔ربوہ کی کئی مجالس سونی پڑ گئی ہیں اور رنگ پھیکا پڑ گیا ہے۔