حیاتِ خالد — Page 147
حیات خالد 153 مناظرات کے میدان میں کر دیتے تو پبلک خود اندازہ لگا لیتی کہ ان سے آنحضرت ﷺ کی پیروی میں بغیر جدید شریعت کے اجراء نبوت ثابت ہے یا نہیں۔ہاں ہاہیوں سے چرانے کی بھی خوب کہی وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کے بعد دور نبوت کو ختم مانتے ہیں ان سے امکان نبوت کے ثبوت کی آیات چرانے کا خیال شاید پیغامی دماغ میں ہی آ سکتا ہے۔میں تو جناب سے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اگر يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ آیت باہیوں سے چرائی ہوئی ہے تو اس کے چرانے والے مولوی غلام حسن صاحب پشاوری ہیں جنہوں نے اسے سید مدثر شاہ کی موجودگی میں غیر احمدیوں کے سامنے پیش کیا۔(اخبار بدر۳ / جنوری ۱۹۰۸ء) میں حیران ہوں کس نے بہائیت سے نابلد محض اشخاص کے منہ میں یہ کلمہ ڈال دیا ہے کہ یہ آیات باہیوں سے چرائی ہوئی ہیں۔آیات کا چرانا خود ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔جو ڈاکٹر صاحب ایسے لوگوں کو ہی سزاوار ہے۔مجھے یاد ہے سری نگر کے مباحثہ میں میر مدثر شاہ صاحب نے بھی کسی کی انگیخت سے کہہ دیا تھا کہ یہ آیت تو تم نے بہاء اللہ سے چرائی ہے۔مگر جب چیلنج کیا گیا کہ بتاؤ بہاء اللہ نے کہاں اسے امکان نبوت کیلئے پیش کیا ہے۔تو وہ اپنے قرین مولوی عبداللہ صاحب کشمیری کی طرف دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے اور آخیر تک کوئی جواب نہ دے سکے۔غالباً یہ سب لوگ ” بیان القرآن کے محرر کی ہاں میں ہاں ملانے کیلئے ایسا کہہ دیا کرتے ہیں تا کہ عوام الناس آیت کے مطلب پر غور ہی نہ کر سکیں۔ڈاکٹر صاحب نے چند اقتباسات مختلف کتابوں سے نقل کر کے ڈاکٹر صاحب کی جوابی تقریر ایک مضمون بنالیا تھا جسے بغیر اس لحاظ کے کہ اس موقع سے یا مدعی کی تقریر سے اس کا کوئی تعلق بھی ہے آپ نے پڑھنا شروع کر دیا۔اور بدقسمتی سے جب وہ تحریر نصف گھنٹہ یا اس سے تھوڑے سے زیادہ عرصہ میں ختم ہو گئی۔تو آپ نے خاکسار سے از راہ مہربانی فرمایا اب بس میں نے عرض کیا مباحثہ کا وقت تین گھنٹہ مقرر ہو چکا ہے اب بس کا کیا مطلب؟ پھر کیا تھا۔آپ نے اپنی باری پر وہی تحریر پھر پڑھنی شروع کر دی۔اس بیان کا خلاصہ پیغام صلح کی مذکورہ بالا اشاعت میں درج ہے مگر ایسے رنگ میں کہ گویا یہ وہ ٹھوس دلائل تھے جن کا جواب نہ تھا۔لہذا اس پر مناظرہ ختم ہو گیا۔حالانکہ ڈاکٹر صاحب کو ان تمام باتوں کے مفصل اور مکمل جوابات دیئے گئے اور حاضرین نے پسند کئے۔میں خوف طوالت سے ان کو قولہ اور اقول کے طریق سے مختصر درج کئے دیتا ہوں۔