حیاتِ خالد — Page 121
حیات خالد 127 بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا مناظرات کے میدان میں (۲ مارچ ۱۹۲۸ء) ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس مناظرہ کی ایک جامع رپورٹ حضرت مولانا کے اپنے قلم سے شائع شدہ موجود ہے۔یہ رپورٹ ساری گفتگو کا خلاصہ ہونے کے باوجود بہت تفصیلی ہے۔عام طور پر سوانح کی کتب ایسی تفاصیل کی متحمل نہیں ہو سکتیں لیکن پھر بھی یہ خواہش ہے کہ یہ ساری رپورٹ اس جگہ پیش کی جائے اور ہمیں یقین ہے کہ اہل علم و دانش اس رپورٹ میں شامل حوالہ جات اور علمی نکات سے بھر پور استفادہ کر سکیں اور ویسے بھی یہ رپورٹ بہت خوبصورتی سے مناظرات کے ماحول کا نقشہ کھینچتی ہے اور بتاتی ہے کہ ہمارے بزرگ علماء کو کس قسم کے کج بحث اور بحث برائے بحث کرنے والے اور میں نہ مانوں کی رٹ لگانے والے ضدی مخالفین اسلام سے واسطہ پڑتا تھا اور پھر اس رپورٹ سے یہ دلکش منظر بھی نظروں کے سامنے آجاتا ہے کہ مخالف کی ہر چال اور ہر راہ فرار کے مقابل پر حضرت مولانا کا طرز استدلال اور انداز بیاں کیسا وقیع ، مدلل اور شائستہ ہوتا تھا۔مخالف بار بار عاجز آ کر نئے سے نیا اعتراض اٹھا لاتا ہے اور پینترہ بدلتا چلا جاتا ہے اور حضرت مولانا بڑی متانت اور مسکت دلائل سے معترض کا منہ بند کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ پُر لطف نظارہ دکھانے اور یہ بتانے کیلئے کہ کس طرح حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے غلاموں کو اللہ تعالیٰ نے واقعی دلیل و برہان کے میدان میں مخالفین پر نمایاں برتری عطا فرمائی تھی، تفصیلی رپورٹ اس جگہ درج کرتے ہیں۔ایک ایک جواب ایسا ہے کہ دل عش عش کر اُٹھتا ہے؟ حضرت مولا نا تحریر فرماتے ہیں :- پادری مسیح نے کہا تھا کہ ” میں آؤنگا یہ نہیں کہا کہ میرا مثیل آئے گا اس لئے خود مسیح ہی آئیں گے۔مرزا صاحب کیونکر مسیح موعود بن سکتے ہیں؟ احمدی یہ اعتراض انا جیل سے نا واقفیت کی بناء پر پیدا ہوتا ہے۔بائبل میں صاف لکھا ہے کہ ایلیا دوبارہ آئے گا۔چنانچہ ملا کی ۵:۴ میں ہے " ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں ایلیا نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا کیونکہ سلاطین کی کتاب میں ایلیا کے متعلق لکھا ہے ایلیا بگولے میں ہو کے آسمان پر جاتا رہا۔(۲ سلاطین ۱۱:۲) گویا یہود بالا تفاق مسیح کی آمد سے پیشتر ایلیا کا آنا ضروری قرار دیتے