حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 11 of 923

حیاتِ خالد — Page 11

حیات خالد 11 خلفائے احمدیت کے مبارک ارشادات خلفائے احمدیت کے مبارک ارشادات خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ کو یہ با برکت اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے دو خلفائے احمدیت کے زیر سایہ مسلسل پچاس سال تک نہایت امتیازی خدمات دینیہ بجالانے کی توفیق اور سعادت پائی۔ان ہر دو خلفاء نے زبانی اور تحریری طور پر ہار با آپ کا بہت محبت اور قدردانی کے انداز میں ذکر فرمایا۔آپ کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اسیج الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی متعدد مواقع پر آپ کا ذکر خیر فرمایا اور تحریری طور پر بھی آپ کے بارہ میں اپنے دلی جذبات محبت کا اظہار فرمایا۔خلفائے احمدیت کے یہ ارشادات حضرت مولانا کی عظیم شخصیت کے بہترین ترجمان ہیں۔سید نا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے با برکت تاثرات کے بعد کتاب کی ابتداء انہی مبارک ارشادات سے کی جاتی ہے۔بطور نمونہ چند منتخب ارشادات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔○ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشادات حضرت مولانا ۱۹۲۷ء میں مولوی فاضل کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اوّل آئے۔آپ نے آئندہ تعلیم کے سلسلہ میں راہنمائی کی غرض سے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں لکھا کہ اول آنے کی وجہ سے یونیورسٹی کی طرف سے انگریزی کی تعلیم کیلئے تمہیں روپے ماہوار وظیفہ مل سکتا ہے۔اگر حضور کا ارشاد ہو تو میں وہاں داخل ہو جاؤں۔جوا با حضرت مصلح موعود نے تحریر فرمایا:- " جسے ہم میں انفس بنانا چاہتے ہیں اسے میں روپے میں گرفتار کرانے کیلئے تیار نہیں"۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی پہلی اہلیہ کی وفات پر عقد ثانی کیلئے رشتہ کی تحریک فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے دستِ مبارک سے آپ کے بارہ میں تحریر فرمایا : - 0 بہت ہو نہار نوجوان