حیات بشیر — Page 59
59 رحمت اور اپنی قدرت کا درخت لگایا ہے۔انگوٹھی کے نگینہ پر ۱۳۱۲ ھ کی تاریخ لکھی ہے۔۲۰ انگوٹھیوں کی تقسیم کا واقعہ گو ۰۸ء میں نہیں ہوا بلکہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے ایک عرصہ بعد ایسا ہوا۔مگر چونکہ اس کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے ساتھ تھا اس لئے اسی سن کے واقعات میں اس کا ذکر کر دیا گیا ہے۔کشمیر کی سیاحت جولائی 9ء میں آپ سیرو سیاحت کے لئے سری نگر تشریف لے گئے۔سیدنا حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب بھی آپ کے ساتھ تھے۔لا اگست کے آخر میں آپ خیریت کے ساتھ قادیان واپس پہنچ گئے۔۱۲ میٹرک کا امتحان اور کالج میں داخلہ 1910ء میں آپ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں پر پاس کیا۔بارہ لڑکے شریک امتحان ہوئے تھے جن میں سے آٹھ کامیاب ہوئے اور آپ اپنے مدرسہ میں اوّل آئے۔۶۳ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔اخبار بدر میں یہ خبران الفاظ میں درج ہے: صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب امتحان انٹرنس پاس کر کے اب گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا کے علوم سے بہرہ وافی عطا فرمائے۔۶۴۴ کھیلوں میں دیپسی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ کھیلوں میں بھی خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔جس کی وجہ سے کالج کی فٹ بال ٹیم کے آپ کیپٹن مقرر ہوئے اور بہترین کھلاڑی تسلیم کئے گئے۔قادیان میں بھی جب کوئی ٹورنامنٹ ہوتا تو آپ ریفری شپ کے فرائض سرانجام دیتے تھے اور جہاں تک مجھے یاد ہے یہ سلسلہ ۲۸-۲۷ء تک جاری رہا۔