حیات بشیر

by Other Authors

Page 54 of 568

حیات بشیر — Page 54

54 مکان کا جو حصہ ہے اس میں ہم دوسرے بچوں کے ساتھ چارپائیوں پر لیٹے ہوئے سو رہے تھے۔جب زلزلہ آیا تو ہم سب ڈر کر بے تحاشا اُٹھے اور ہم کو کچھ خبر نہیں تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔صحن میں آئے تو اوپر سے کنکر روڑے برس رہے تھے ہم بھاگتے ہوئے بڑے مکان کی طرف آئے وہاں حضرت مسیح موعود اور والدہ صاحبہ کمرے سے نکل رہے تھے۔ہم نے جاتے ہی حضرت مسیح موعود کو پکڑ لیا اور آپ سے لپٹ گئے۔آپ اس وقت گھبرائے ہوئے تھے اور بڑے صحن کی طرف جانا چاہتے تھے مگر چاروں طرف بچے چھٹے ہوئے تھے اور والدہ صاحبہ بھی۔کوئی ادھر کھینچتا تھا تو کوئی اُدھر اور آپ سب کے درمیان میں تھے۔آخر بڑی مشکل سے آپ اور آپ کے ساتھ چمٹے ہوئے بڑے صحن میں پہنچے اس وقت تک زلزلہ کے دھکے بھی کمزور ہو چکے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد آپ ہم کو لے کر اپنے باغ میں تشریف لے گئے۔دوسرے احباب بھی اپنا ڈیرہ ڈنڈا اٹھا کر باغ میں پہنچ گئے۔وہاں حسب ضرورت کچھ کچے مکان بھی تیار کروا لئے گئے اور کچھ خیمے منگوا لئے گئے اور پھر ہم سب ایک لمبا عرصہ باغ میں رہے۔ان دنوں میں مدرسہ بھی وہیں لگتا تھا۔گویا باغ میں ایک شہر آباد ہو گیا تھا۔ہم۔اللہ اللہ کیا زمانہ تھا۔۵۰ قوافی کی تلاش حضرت مسیح موعود علیہ السلام زلزلہ کے بعد جب باغ میں تشریف رکھتے تھے تو وہیں آپ نے براہین احمدیہ حصہ پنجم کی وہ نظم لکھنی شروع کی جس میں پروردگار ثمار وغیرہ قوافی آتے ہیں۔آپ نے ایک روز گھر والوں سے فرمایا کہ اس طرح کے قوافی جمع کر کے اور لکھ کر ہم کو دو کہ ہم ایک نظم لکھ رہے ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت میں نے بھی بعض قافئے سوچ کر عرض کئے تھے۔اللہ شادی کی مبارک تقریب مئی 1907ء میں آپ کی شادی کی تقریب عمل میں آئی۔آپ اپنے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب اپنے بڑے بھائی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور دیگر احباب کے ساتھ قادیان سے ۱۰رمئی 7ء کی صبح کو پشاور روانہ ہوئے اور ۱۶ رمئی کو بعد دو پہر واپس قادیان پہنچ گئے۔۵۲