حیات بشیر — Page 48
48 چھیڑ خانی فرماتے تھے: ایک دفعہ ہم گھر کے بچے مل کر حضرت صاحب کے سامنے میاں شریف احمد کو چھیڑ نے لگ گئے کہ ابا کو تم سے محبت نہیں ہے اور ہم سے ہے۔میاں شریف بہت چڑتے تھے۔حضرت صاحب نے ہمیں روکا بھی کہ زیادہ تنگ نہ کرو۔مگر ہم بچے تھے لگے رہے۔آخر میاں شریف رونے لگ گئے اور ان کی عادت تھی کہ جب روتے تھے تو ناک سے بہت رطوبت بہتی تھی۔حضرت صاحب اُٹھے اور چاہا کہ اُن کو گلے لگالیں تا کہ اُن کا شک دور ہو مگر وہ اس وجہ سے کہ ناک بہہ رہا تھا پرے پرے کھنچتے رہے۔حضرت صاحب سمجھتے تھے کہ شاید اُسے تکلیف ہے اس لئے دُور ہٹتا ہے۔چنانچہ کافی دیر تک یہی ہوتا رہا کہ حضرت صاحب اُن کو اپنی طرف کھینچتے تھے اور وہ پرے پرے کھنچتے تھے اور چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ اصل بات کیا ہے اس لئے ہم پاس کھڑے ہنستے جاتے تھے۔۳۴ پیسوں کا تقاضا فرماتے تھے: ”جب ہم بچے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خواہ کام کر رہے ہوں یا کسی اور حالت میں ہوں ہم آپ کے پاس چلے جاتے تھے کہ ابا پیسہ دو اور آپ اپنے رومال سے پیسہ کھول کر دے دیتے تھے۔اگر ہم کسی وقت کسی بات پر زیادہ اصرار کرتے تھے تو آپ فرماتے تھے کہ میاں میں اس وقت کام کر رہا ہوں زیادہ تنگ نہ کرو۔“ ۳۵ کہانیوں کا شوق فرماتے تھے: حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض اوقات گھر میں بچوں کو بعض کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے چنانچہ ایک بُرے بھلے کی کہانی بھی آپ عموماً سناتے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک بڑا آدمی تھا اور ایک اچھا آدمی تھا اور دونوں نے اپنے رنگ میں کام کئے اور آخر کار بُرے آدمی کا انجام بُرا ہوا اور اچھے کا اچھا۔اسے