حیات بشیر — Page 452
452 نہیں ہے وہ ماتحت اور محکوم نہیں ہے۔وہ پوری طاقت اور غلبہ رکھتا ہے۔وہ اس میں ترمیم و تنسیخ کر سکتا ہے وہ اسے بدل سکتا ہے۔مگر میں یہی سمجھتا ہوں کہ میرا وقت قریب آرہا ہے۔میں نے عرض کیا کہ احباب جماعت آپ کی خدمت میں شکستہ حالت میں حاضر ہوتے اور حوصلہ مند ہو کر جاتے ہیں۔مگر آج آپ کی یہ کیفیت کچھ معمول کے خلاف ہے۔فرمایا کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ عزیز میاں عبداللہ خاں صاحب کی وفات کے صدمہ کو میں نے کس طرح برداشت کیا۔اور پھر عزیز میاں شریف احمد صاحب کی وفات کے وقت کس طرح اپنے جذبات کو قابو میں رکھا۔حضور ایدہ اللہ کی خدمت میں یہ اطلاع میں نے کس طرح کنٹرول کرتے ہوئے دی۔اور پھر جلسہ سالانہ کے سٹیج پر میں نے میاں شریف احمد صاحب کی وفات کا اعلان کیا۔کیا آپ نے میرے کسی لفظ یا فقرہ یا کسی حرکت سے یہ محسوس کیا تھا کہ میں جذبات کی رو میں بہہ گیا ہوں۔اب میرا مقدر وقت آ گیا ہے جو بہر حال آنا ہی تھا۔پھر آپ نے فرمایا اگر آپ کے علم میں میں نے دانستہ یا نادانستہ طور پر دفتر کے یا کسی اور آدمی کے ساتھ جائز یا ناجائز سختی کی ہو تو آپ میری طرف سے معافی مانگیں۔میں چاہتا ہوں کہ اس دنیا کا حساب اسی دنیا میں ختم کر جاؤں۔میں نے عرض کیا کہ اگر آپ نے کبھی ایسا کیا بھی ہے تو اسمیں آپ کے مدنظر اس شخص کی اصلاح اور تربیت ہی مقصود تھی۔اس کے بعد آپ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رقت آمیز لہجہ میں فرمایا۔ہاشمی صاحب! آپ اس بات کے گواہ رہیں اور میں آپ کے سامنے اس امر کا اقرار اور اظہار کرتا ہوں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اس وقت سے لے کر اب تک میرے دل میں سب سے زیادہ حضرت سرور کائنات ﷺ کی محبت جاگزیں ہے۔حدیث میں آتا ہے۔المرء مع من احب۔اس لحاظ سے مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت مجھے وہاں آنحضرت ﷺ کے قرب سے نوازے گا۔اور پھر فرمایا کہ آپ اس بات کے بھی گواہ رہیں کہ میں آپ کے سامنے اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں۔کہ میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر انشراح صدر سے راضی ہوں۔پھر فرمایا کہ میں ہمیشہ جماعت کے غریبوں اور نادار طلبا کی امداد کا خیال رکھتا ہوں۔میں دوستوں کو تحریک کردیتا تھا اور دوست مجھے روپیہ بھجوا دیتے تھے۔اور اس طرح غریبوں کی مدد کا سامان ہو جاتا پرا