حیات بشیر — Page 444
444 یعنی اے محمد ہم نے تجھے عظیم الشان نعمتیں عطا کی ہیں پس تو ان انعاموں کی شکر گزاری میں خوب عبادت بجا لا اور خدا کے رستہ میں بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کر کیونکہ دعاؤں اور قربانیوں کے نتیجہ میں تو اور ترقی کرے گا۔اور یقینا تیرا دشمن جو تجھے ابتر کہتا ہے وہ خود ابتر اور بے ثمر رہے گا۔۴:ماکان محمدا ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النبيين۔۔۔جاننا چاہیے کہ لفظ خاتم کی دو قرآتیں آئی ہیں۔مشہور قرآت جو قرآن کیرم میں درج ہے وہ خاتم کی زبر کے ساتھ ہے لیکن ایک دوسری قرأت جو شاذ کے طور پر ہے گو وہ قرآن کریم میں تو نہیں لیکن تفاسیر میں ت کی زیر کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔پہلی قرات کے لحاظ سے قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے آیت محولہ بالا کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ”اے لوگو ! محمد اللہ تم میں سے کسی مرد یعنی نرینہ اولاد کے جسمانی باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہونے کے لحاظ سے مومنوں کے روحانی باپ ہیں۔بلکہ وہ نبیوں مہر ہیں اور اس لحاظ سے گویا نبیوں کے لئے بھی بمنزلہ باپ کے ہیں۔اور آئندہ کوئی نبی آپ کی تصدیقی مہر کے بغیر سچا نہیں سمجھا جاسکتا۔کی دوسری قرأت کے لحاظ سے آپ نے آیت مذکور بالا کے یہ معنی کئے ہیں ”اے لوگو ! محمد اللہ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں لیکن وہ رسول ہونے کے لحاظ سے مومنوں کے باپ ہیں اور رسول بھی اس شان کے کہ ان پر تمام کمالات نبوت ختم ہیں۔یعنی وہ افضل ترین نبی ہیں۔اے نوٹ : یاد رہے کہ خاتم کے معنی عربی زبان میں مہر کے ہوتے ہیں۔اور خاتم کے کسی امر کو کمال تک پہنچانا۔چنانچہ لغت کی مشہور کتاب اقرب الموارد میں لکھا ہے ختم اللہ لہ الخير اتمہ یعنی جب یہ کہا جائے کہ خدا تعالٰی نے فلاں شخص کے لئے خوبیوں کو ختم کر دیا تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ انہیں کمال تک پہنچا دیا۔۵: وعد الله الذين امنو امنكم و عملوا الصالحات ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم و ليبدلنهم من بعد خوفهـم امـنـا يـعـبـدونـنـي لا يشركون بي شيئا ومن كفر بعد ذالک فاولئک هم