حیات بشیر

by Other Authors

Page 407 of 568

حیات بشیر — Page 407

407 مال ہے یا دل و دماغ کی طاقتیں ہیں یا علم ہے یا اوقات زندگی ہیں۔ان سب میں سے خدا اور جماعت کا حصہ نکالنا چاہیے اور خصوصاً انہیں بچپن میں ہی اپنے ہاتھ سے چندہ دینے اور غریبوں کی مدد کرنے اور جماعتی کاموں میں اپنی توجہ اور اپنے وقت کا کچھ حصہ خرچ کرنے کا عادی بنائیں۔یہ حکم نماز کے بعد اسلام کا دوسرا ستون ہے اور اس کے بغیر کوئی شخص حکومت الہی کی لڑی میں پرویا نہیں جا سکتا۔ہفتم: ماؤں کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو ہمیشہ شرک خفی کے گڑھے میں گرنے سے ہوشیار رکھیں۔دنیا کی ظاہری تدبیروں کو اختیار کرنے کے باوجود ان کا دل ہر وقت اس زندہ ایمان سے معمور رہنا چاہیے کہ ساری تدبیروں کے پیچھے خدا کا ہاتھ کام کر رہا ہے اور وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ہشتم: بچوں کو ماں باپ اور دوسرے بزرگوں کا ادب سکھایا جائے خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار، ہمسایہ ہوں یا اجنبی۔ادب اسلامی طریقت کی جان ہے اور پھر بچوں کے اندر خصوصیت سے والدین کی اطاعت اور ان کی خدمت و احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے۔اس کی طرف سے غفلت برتنے کو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام میں گناہ نمبر ۲ شمار کیا ہے۔ہر احمدی ماں کا یہ فرض ہے کہ بچوں میں سچ بولنے کی عادت پیدا کرے۔صداقت تمام نیکیوں کا منبع اور جھوٹ تمام بدیوں کا مولد ہے۔سچ بولنے والا بچہ خدا کا پیارا اور قوم کی زنیت اور خاندان کا فخر ہوتا ہے۔اور قول الزور (جھوٹ) سے بڑھ کر اخلاق میں پستی پیدا کرنے والی اور بدی کے ناپاک انڈوں کو سینے والی نهم: کوئی چیز نہیں۔دہم : ماں باپ کا فرض ہے کہ ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے خدا کے حضور خاص طور پر دعا کرتے رہیں کہ وہ انہیں نیکی کے رستہ پر قائم رکھے اور دین و دنیا میں ترقی عطا کرے اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔یہ دس سنہری گر بیان فرمانے کے بعد آپ لکھتے ہیں: وو یہ وہ دس بنیادی باتیں ہیں جو اولاد کی تربیت کے لئے نہایت ضروری ہیں اور یہ وہ بیج ہے جو احمدی ماؤں کے ہاتھوں سے ہر احمدی بچے کے دل میں بویا جانا ضروری