حیات بشیر

by Other Authors

Page 406 of 568

حیات بشیر — Page 406

406 اچھی ماں کا وجود ایک بالکل بنیادی چیز ہے اور اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔کاش دنیا اس حقیقت کو سمجھے! سوم: بچوں کی تربیت کا آغاز ان کی ولادت کے ساتھ ہی شروع ہو جانا چاہیے اور خواہ وہ بظاہر ماں باپ کی بات سمجھیں یا نہ سمجھیں بلکہ خواہ وہ بظاہر اپنی آنکھیں اور کان استعمال کر سکیں یا نہ کر سکیں ماں باپ کو یہی سمجھنا چاہیے کہ وہ ہمارے ہر فعل کو دیکھ رہے اور ہمارے ہر قول کو سن رہے اور ہماری ہر بات کا اثر لے رہے ہیں۔اسلام نے بچہ کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے کان میں اذان دلا کراسی نفسیاتی چهارم: نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ماؤں کا فرض ہے کہ بچپن میں ہی اپنے بچوں کے دلوں میں ایمان بالغیب کا تصور راسخ کر دیں اور ان کی طبیعت میں یہ بات پختہ طور پر جما دیں کہ اس دنیائے شہود میں روحانی اور مادی نظام کی حقیقی تاریں ایک پردہ غیب کے پیچھے کھینچی جا رہی ہین جس کا مرکزی نقطہ خدا کی ذات ہے اور باقی ارکان فرشتے اور الہامی کتابیں اور رسول اور یوم آخر اور تقدیر خیر و شر ہیں۔جس شخص نے اس نکتہ کو پا لیا اس کے لئے فلسفہ موت و حیات ایک کھلا ہوا منشور بن کر سامنے آجاتا ہے۔پنجم: ماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بچپن سے ہی نماز کا پابند بنائیں اور نماز کی روح اور حقیقت سکھائیں۔کیونکہ عمل کی زندگی میں نماز خالق اور مخلوق کے درمیان کی وہ کڑی ہے جس سے دل کا چراغ روشن رہتا ہے اور انسان گویا روحانیت کی مخفی تاروں کے ذریعہ خدا کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔جس ماں نے اپنے بچوں کو نماز کا پابند بنا دیا اور ان کے دل میں نماز کا شوق پیدا کردیا اس نے ان کے دین کو ایسے کڑے کے ساتھ باندھ دیا جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ایسے بچے خدا کی گود میں ہوتے ہیں اور ان کی مائیں خدا کے دائمی سایہ کے نیچے۔عمل کے میدان میں یہ بچوں کا سبق نمبر ا ہے اور نتائج کے لحاظ سے پوری کتاب درس۔ششم: ماؤں کا فرض ہے کہ اپنے بچوں میں بچپن سے ہی انفاق فی سبیل اللہ یعنی دین کے لئے اپنا مال اور اپنا وقت اور اپنی طاقتیں خرچ کرنے کی عادت ڈالیں اور ان میں یہ احساس پیدا کرائیں کہ ہر چیز جو انہیں خدا کی طرف سے ملی ہے خواہ وہ