حیات بشیر

by Other Authors

Page 405 of 568

حیات بشیر — Page 405

405 مال اور وقت کی قربانی، خدا اور رسول کی محبت، دینی غیرت وغیرہ وغیرہ کے نظارے دیکھتے ہیں بلکہ جس طرح وہ اپنی ماں کے اعمال کو دیکھتے ہیں اسی طرح ان کی ماں بھی شب و روز اُن کے اعمال کو دیکھتی ہے اور ہر خلاف اخلاق بات اور ہر خلاف شریعت حرکت پر ان کو ٹوکتی اور شفقت و محبت کے الفاظ میں انہیں نصیحت کرتی رہتی ہے۔ماں کا یہ فعل جو اس کی اولاد کے لئے ایک دلکش و شیریں اسوہ ہوتا ہے اور ماں کا یہ قول جو اس کے بچوں کے کانوں میں شہد اور تریاق کے قطرے بن کر اُترتا چلا جاتا ہے اُن کے گوشت پوست اور ہڈیوں تک میں سرایت کر کے اور اُن کے خون کا حصہ بن کر انہیں گویا ایک نیا جنم دے دیتا ہے۔کاش دنیا اس نکتہ کو سمجھ لے۔قوموں کے لیڈر اس نکتہ کو سمجھ لیں۔خاندانوں کے بانی اس نکتہ کو سمجھ لیں گھر کا آقا اس نکتہ کو سمجھ لے۔بچوں کی ماں اس نکتہ کو سمجھ لے اور کاش بچے ہی اس نکتہ کو سمجھ لیں کہ اولاد کی تربیت کا بہترین آلہ ماں کی گود ہے۔پس اے احمدیت کی فضا میں سانس لینے والی بہنو اور بیٹیو اور اے آج کی ماؤں اور کل کو ماں بننے والی لڑکیو! اگر قوم کو تباہی کے گڑھے سے بچا کر ترقی کی شاہراہ کی طرف لے جانا ہے تو سنو اور یاد رکھو کہ اس نسخہ سے بڑھ کر کوئی نسخہ نہیں کہ اپنی گودوں کو نیکی کا گہوارہ بناؤ۔اپنی گودوں میں وہ جوہر پیدا کرو جو بدی کو مٹاتا اور نیکی کو پروان چڑھاتا ہے جو شیطان کو دور بھگاتا ہے اور انسان کو رحمان کی طرف بھینچ لاتا ہے۔۱۴ اس رسالہ میں آپ نے بچوں کی صحیح تربیت کے لئے اسلام کے بتلائے ہوئے دس سنہری گر بیان فرمائے ہیں جن کا خلاصہ آپ ہی کے الفاظ میں یہ ہے: اول: مسلمان مرد دیندار اور با اخلاق بیویوں کے ساتھ شادیاں کریں تاکہ نہ صرف ان کا گھر ان کی اپنی زندگی میں جنت کا نمونہ بنے بلکہ اولاد کے لئے بھی نیک تربیت اور نیک نمونہ میسر آنے سے دائمی برکت کا دور قائم ہو جائے۔دوم ہر عورت خود بھی دیندار بنے۔وہ دین کا علم سیکھے اور پھر دین کے احکام کے مطابق اپنا عمل بنائے تاکہ وہ گھر کی چار دیواری میں دین کا چرچا قائم رکھنے، دین کی تعلیم دینے اور دین کے مطابق عملی نمونہ پیش کرنے کے ذریعہ اپنے بچوں کی زندگیوں کو بچپن سے ہی دینداری اور نیکی کے رستہ پر ڈال سکے اچھی اولاد کے لئے