حیات بشیر

by Other Authors

Page 400 of 568

حیات بشیر — Page 400

400 میں دوبارہ حاضر خدمت ہوا تو مجھ سے فرمایا کہ امید ہے وہ بچہ اب کام کرے گا۔میں نے اس سے وعدہ لیا ہے۔“ 1 محترم میاں عبد الرشید صاحب غنی ایم ایس سی لیکچرار تعلیم الاسلام کالج ربوہ فرماتے ہیں کہ میں نے بی ایس سی کرنے کے بعد حضرت میاں صاحب سے اپنی ایم اے کی تعلیم کے بارہ میں مشورہ چاہا۔تو آپ نے تحریر فرمایا:۔آپ نے ایم اے کی تعلیم کے متعلق لکھا ہے۔ایم اے ریاضی یا فزکس میں سے جس مضمون میں زیادہ دلچپسی ہو لے لیں۔داخلہ نہ ملنے کی تو کوئی وجہ نہیں لیکن اگر خدا نخواستہ کامیابی نہ ہو تو لاء بھی اچھی لائن ہے۔اس میں محنتی اور ذہین آدمیوں کے لئے اب بھی بڑی گنجائش ہے۔اور ابھی تک آپ کے خاندان میں کوئی لاء میں نہیں گیا۔اللہ تعالیٰ آپ اور سب بھائیوں کے ساتھ ہو اور دین و دنیا میں حافظ وناصر رہے۔کے مرزا بشیر احمد ۵۶-۵-۸ 66 حضرت میاں صاحب نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے طالب علموں کی حوصلہ افزائی ہی فرماتے تھے۔بلکہ اگر خدا نخواستہ کوئی طالب علم کسی امتحان میں فیل ہو جاتا تو اسے ایسا تسلی آمیز اور ہمدردی اور دعاؤں سے بھر پور خط لکھتے کہ اس کا سارا غم جاتا رہتا اور وہ ایک نئی امنگ اور نئے عزم کے ساتھ پھر اپنی تعلیم میں مصروف ہو جاتا۔چنانچہ میاں عبدالرشید صاحب غنی ہی لکھتے ہیں کہ ”ایک دفعہ میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر عبدالشکور ایم بی بی ایس کے ایک امتحان میں فیل ہو گئے۔انہوں نے ایک پُر از ندامت خط حضرت میاں صاحب کی خدمت میں لکھا۔حضرت میاں صاحب نے جواباً تحریر فرمایا: ”ابھی ابھی آپ کا خط موصول ہوا۔آپ کے فیل ہونے کا افسوس ہوا۔مگر آپ اس پر حد سے زیادہ غم نہ کریں۔کئی نا کامیاں آئندہ ترقیوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اُحد کے میدان میں ایک عارضی تکلیف پہنچی تھی جو بظاہر شکست کا رنگ رکھتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم الشان کامیابیوں کا پیش خیمہ بنا دیا۔آپ گھبرائیں نہیں اور آئندہ امتحان کے لئے پوری توجہ اور محنت سے تیاری کریں۔بعض