حیات بشیر

by Other Authors

Page 31 of 568

حیات بشیر — Page 31

31 خاکسار پر یہ اثر تھا کہ جب بھی آپ نے کوئی کام کرنے کو فرمایا تو خاکسار نے خوشی خوشی سب کاموں کو چھوڑ کر آپکے ارشاد کی تعمیل کو اپنی سعادت اور خوش بختی سمجھا۔آپ اللہ تعالیٰ کے درولیش تھے۔درویشوں کے سرتاج تھے تمام عمر درویشانہ زندگی گذاری اور نام ونمود سے فطرتاً نفور رہے۔بڑے وفا دار اور دلنواز دوست تھے۔پرانے احمدی خاندانوں کی خاص تکریم فرماتے تھے آپ کی زبان پر سعدی کا یہ مصرعہ قدیمان خود را بیفزائی قدر بہت بھلا معلوم ہوتا تھا کیونکہ آپ کا عمل اس کے مطابق تھا۔خاکسار نے اپنے والد صاحب مرحوم کی آخری بیماری کی آپ کو اطلاع دی اور یہ لکھا کہ والد صاحب کی حالت نازک ہے تو آپ نے فوراً مجھے لکھا کہ آپ کا السلام علیکم والد صاحب کو پہنچا دیا جائے اور والدصاحب کی وفات پر آپ نے جو درد انگیز مضمون لکھا اس میں اس خوشی کا اظہار کیا کہ وفات سے پہلے والد صاحب کو آپ کا السلام علیکم پہنچ گیا ہے۔والد صاحب کی وفات کے متعلق میں نے آپ کو تار دیا اور آپ نے والد صاحب کی تدفین کا اہتمام فرمایا اور مقبرہ بہشتی قادیان کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار سے جو جگہ قریب ترین میسر ہوسکتی تھی وہاں قبر کھدوانے کا بندوبست فرمایا۔خاکسار والدصاحب کا تابوت لیکر قادیان پہنچا تو آپکو اس وفات کی وجہ سے بڑا مغموم اور د مند پایا اور نہایت رفت کی حالت میں آپ نے مجھے سینے سے لگالیا اور حالات پوچھتے رہے۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی تدفین مقبرہ بہشتی ربوہ کے اندر ہو رہی تھی، چار دیواری کے اندر خاکسار دم بخود اور مغموم حالت میں ایک طرف الگ کھڑا تھا آپ نے میرے چہرے پر نظر ڈالی۔بڑی محبت سے آگے بڑھے اور مجھے چھاتی سے لگا لیا۔آپ کی طبیعت کے اندر بہت ضبط تھا، لیکن ان دونوں موقعوں پر آپ نے جو بے اختیاری اختیار کی اس کا سبب میں کیا عرض کروں۔آہ! آہ! درد اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کر دی دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا اور مسامحت کو کام میں لانا آپ کا ایک خاص وصف تھا