حیات بشیر — Page 28
28 بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اور حصہ آپ کے ایک خادم کی نظر میں اللہ عنہ ذیل کا مضمون محترم جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ و امیر جماعت احمدیہ لائل پور نے خاص طور پر ” کیلئے رقم فرمایا ہے۔میں نے جب یہ مضمون پڑھا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے محترم شیخ صاحب نے اس مختصر سے مضمون میں ساری کتاب کا خلاصہ اور نچوڑ نکال کر پیش کر دیا ہے۔مضمون نہایت ہی لطیف پر اثر اور دلکش ہے اور حضرت میاں صاحب مدظلہ العالی کی سیرت کی صحیح اور جامع تصویر پیش کرتا ہے۔محترم شیخ صاحب کو چونکہ حضرت میاں صاحب کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور میل ملاپ کی سعادت حاصل رہی ہے۔اس لئے آپ کی رائے وزنی مستند اور بڑی ہی جامع ہے۔اللہ تعالیٰ شیخ صاحب محترم کو جزائے خیر دے اور آپ کا دین ودنیا میں حافظ وناصر ہو۔(مؤلف) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب کشتی نوح میں اپنی جماعت کو جن ہدایات پر کاربند ہونے کیلئے فرمایا ہے وہ ہدایات زیر عنوان ”ہماری تعلیم کشی نوح میں درج ہیں اور دراصل یہ تعلیم قرآن حکیم اور حدیث شریف کا خلاصہ اور لب ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زندگی اس تعلیم کا عملی نمونہ تھا۔آپ کے اندر علم اور عمل کے کمالات تھے، عفوو درگزر، رفق و مدارات، تحمل اور برداشت، زہدو تعبد، اپنوں اور بیگانوں کی خیر خواہی اور ہمدردی، شجاعت اور انتظامی قابلیت مہمات امور میں اور مشکل حالات میں ہمیشہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے جاں بکف اور سینہ سپر ہو جانا۔یہ وہ اخلاق عالیہ تھے جن کو ایک دنیا نے مشاہدہ کیا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ان اخلاق کریمہ کی وجہ سے آپ ایک ایسے انسان تھے جو احسن التقویم کا زندہ نمونہ تھے۔