حیات بشیر — Page 257
257 زمانہ تھا! آپ سے ملاقات میں سہولت قادیان دارالامان اور ربوہ دارالہجرت میں اگر کوئی شخصیت حضرت اقدس امیر المؤمنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بعد سب سے زیادہ پرکشش اور جاذب توجہ تھی تو وہ آپ ہی کی تھی۔ہر احمدی زائر یہ کوشش کرتا تھا کہ حضرت اقدس کی ملاقات کے بعد آپ کی خدمت میں ضرور حاضر ہو اور یہ صورت تو حضرت اقدس کی صحت کے زمانہ میں تھی۔حضور کی بیماری میں تو چونکہ حضور سے ملاقات کا موقعہ بہت کم نصیب ہوتا تھا اس لئے ہر وہ شخص جو حضور کی ملاقات سے محروم رہتا وہ ضرور ہی حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا اور جب آپ سے ملاقات کا موقعہ مل جاتا تو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا کہ اگر حضرت صاحب کی زیارت کا شرف حاصل نہیں ہوا تو حضرت میاں صاحب سے تو ملاقات کر ہی لی ہے۔ربوہ میں جب آپ مسجد مبارک میں تشریف لاتے اور بیماری کے ایام میں بھی مغرب کی نماز تو آپ ضرور ہی مسجد مبارک میں پڑھا کرتے تھے تو آپ کی نورانی شخصیت کو دیکھتے ہی تمام نمازی کھڑے ہو جاتے اور ہر شخص مصافحہ کرنے کی کوشش کرتا اور جو نماز کے دوران میں یا بعد میں مسجد میں آتے وہ نماز کے بعد آپ سے مصافحہ کر کے اپنی روحانی پیاس بجھایا کرتے تھے۔یہی حال جمعہ کی نمازوں اور عیدین میں ہوا کرتا تھا گو ان ملاقاتوں میں آپ کو خاصی کوفت ہو جایا کرتی تھی لیکن آپ نے کبھی ملال کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ نہایت ہی بشاشت سے آپ مصافحہ کیا کرتے تھے اور اکثر باہر سے آنے والے دوستوں کی خیر وعافیت بھی دریافت فرماتے تھے۔ایک واقعہ بھی عرض کرتا ہوں۔محترم ملک حبیب الرحمن صاحب ڈپٹی انسپکٹر آف سکولز سرگودہا بیان فرماتے ہیں کہ گذشتہ عیدالفطر کے موقع پر آپ کی طبیعت بیحد کمزور تھی اور مسجد میں آپ کی نشست کے قریب ایک کرسی رکھی تھی تاکہ حسب ضرورت آپ اس پر بیٹھ کر کسی قدرستا لیں۔چنانچہ نماز کے بعد جب دوستوں، بزرگوں، نوجوانوں اور بچوں نے اپنا رُخ آپ کی طرف کیا تاکہ آپ سے مصافحہ کر کے اپنی محبت کی آگ کو کسی قدر ٹھنڈا کریں تو میں جو آپ کے قریب ہی کھڑا تھا مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ موقعہ بہم پہنچایا کہ میں محبین اور محبوب کے درمیان کھڑا ہو کر باری باری ایک ایک دوست کو