حیات بشیر — Page 232
232 - کا میں اوپر ذکر کر چکی ہوں۔ذکر کر کے فرمایا اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کیا ہوا کرتا تھا۔میں شرمندہ ہو گئی اور عرض کیا کہ حضور کی ہی ایک کتاب میں یہ واقعہ پڑھا تھا۔ہنستے اور فرمایا کہ بلی نے شینہہ نوں پڑھایا تے مڑ بلی نوں کھاون آیا“ ۱۹۵۰ء کے قافلہ میں میں قادیان جلسہ سالانہ پر گئی۔واپسی پر حضور میاں صاحب سے ملاقات ہوئی تو بڑے خوش ہوئے اور فرمایا کہ الحمد اللہ اب میں خوش ہوں۔اب تمہارے خط کا بوجھ میرے دل سے اُتر گیا ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور میں مستقل طور پر قادیان چلی گئی۔“۔محترمه امة اللطيف صاحبه جنرل سیکرٹری لجنہ اماء الله مرکز یہ بنت مكرم عبد الرحیم صاحب درویش قادیان فرماتی ہیں کہ : وو یہ بات تو ہر فرد جماعت جانتا ہے کہ آپ کی ذات بابرکات غمگساری و همدردی و شفقت کا مجسمہ تھی لیکن درویش اور درویش کے ہر عزیز کے لئے جس قدر تسلی و اطمینان کا موجب تھے وہ ہمارے دل جانتے ہیں۔آپ ہمارے ہر کام پر ضرورت اور مشکل پر نگاہ رکھتے۔خواہ کوئی بڑا کام ہو یا چھوٹا۔جس وقت بھی ضرورت پڑتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور جب لوٹتے تو نہ صرف کام اور ضرورت پوری جاتی بلکہ آپ کی ملاقات سے ایسا اطمینان اور خوشی حاصل ہوتی جو کبھی کسی اور ذریعہ سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ہو ہم چار بہنوں کے رشتے آپ کے بہترین اور قیمتی مشوروں سے طے پائے۔میرے لئے کئی ایک رشتوں میں سے آپ کو یہی رشتہ پسند آیا۔میرا نکاح ہوگیا لیکن رخصتانہ ایک سال بعد ہوا۔اس دوران میرے ابا جان کا خط آیا جس میں حضرت میاں صاحب کے نام بھی کوئی پیغام تھا۔میں وہ خط لے کر ہمشیرہ سراج بی بی صاحبہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔اس میں میرے ابا جان نے ایک خواب بھی لکھی ہوئی تھی کہ ایک بکری ہے جو لطیف کے گرد چکر لگا رہی ہے۔جب آپ نے پڑھا تو آپ نے قدرے پریشانی سے فرمایا کہ سراج بی ! لطیف کے رخصتانہ میں کیا دیر ہے؟ یہ خواب اچھی نہیں ہے۔رخصتانہ جلد ہو جانا چاہیے۔