حیات بشیر

by Other Authors

Page 192 of 568

حیات بشیر — Page 192

192 آنحضرت علی سے اکتساب نور کیا اور حضرت قمر الانبیاء رضی اللہ عنہ نے مسیح موعود علیہ السلام کی شاگردی میں یہ مقام حاصل کیا۔چنانچہ آپ نے بچپن سے لیکر اپنی وفات تک جو شاندار قلمی جہاد کیا اس میں آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت اور صداقت پر وہ بیش قیمت اور انمول لٹریچر چھوڑا۔جو رہتی دنیا تک اس مضمون پر قلم اٹھانے والوں کے لئے مشعل راہ کا کام دے گا۔ان دوسرے معنوں کے لحاظ سے ”قمر الانبیاء کے یہ بھی معنی ہیں کہ آپ آنحضرت علی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کے زندہ گواہ ہوں گے۔چنانچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ نے ان مقدس وجودوں کی پیروی میں اپنے آپ پر فنا طاری کر لی تھی۔بظاہر بالکل معمولی نظر آنے والے امور میں بھی اسوہ رسول کریم علی اللہ اور اسوہ مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ آپ کے پیش نظر رہتا تھا۔پیشگوئی مذکورہ بالا کی مزید تشریح مذکورہ بالا پیشگوئی جس میں حضرت صاحبزادہ صاحب کو جناب الہی کی طرف سے قمر الانبیاء کا خطاب دیا گیا ہے۔مکمل صورت میں یوں ہے: ياتي قمر الانبياء و امرك يتاتى يسر الله وجهک وینیر برهانک۔سیولد لک الولد ویدنی منک الفضل۔ان نورى قريب“۔یعنی جب نبیوں کا چاند آئے گا تو تیرا کام آسان ہو جائے گا (یعنی اس کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے گا جس سے تیرا کام سہل ہو جائے گا۔وہ تجھے خوش کر دیگا اور تیری برہان کو روشن کر دے گا۔“ برہان کو روشن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اور اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کے لئے جو دلائل وہ بیان کرے گا اُن کا رعب دنیا پر چھا جائے گا۔چنانچہ ۲۰ /اپریل ۱۸۹۳ء کو حضرت صاحبزادہ صاحب رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی اور ۲۴ / اپریل ۱۸۹۳ء کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگ مقدس“ کی شرائط طے پائیں اور ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ء سے لیکر ۵/جون ۱۸۹۳ء تک پندرہ دن لگاتار بحث جاری رہی جس کے نتیجے میں کسر صلیب کے سامان پیدا ہوئے اور مسلمانوں کو ایسی نمایاں فتح حاصل ہوئی کہ اس مباحثہ کے بعد ۱۸۹۴ء میں جو دنیا بھر کے نامور عیسائیوں کی لندن میں کانفرنس منعقد ہوئی۔اس کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے لارڈ بشپ آف گلوسٹر ریورنڈ "