حیات بشیر — Page 191
191 الشهداء والصالحين وحسن أولئك رفيقاً۔ہے جب اُولئک پڑھا تو محمود سامنے آ کھڑا ہوا۔پھر دوبارہ اُولئک پڑھا تو بشیر آکھڑا ہوا۔پھر شریف آ گیا۔پھر فرمایا کہ جو پہلے ہے وہ پہلے ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو ان چاروں مراتب حسنہ میں علی الترتیب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی ایده الله بنصره العزيز، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی غلامی اختیار کر کے اور آپ میں کامل طور پر فنا ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو امتی نبی کا خطاب پایا اور آپ گروہ انبیاء میں شامل ہو گئے اور حضور کے تینوں فرزندوں نے علی الترتیب صد یقیت اور شہادت اور صالحیت کے انعامات پائے اور اسی طرح سے ایک ہی خاندان کے یہ چاروں فرزند ان اعلیٰ انعامات سے نوازے گئے جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔اللهم صل على محمد و آل محمد۔قمر الانبياء آپ کا ایک نام الہامات میں قمر الانبیاء “ ہے بھی آیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں ”نبیوں کا چاند چاند کا لفظ ہمارے ہاں ”پیارے“ کا مفہوم لئے ہوئے ہوتا ہے گویا اس لحاظ سے آپ کو نبیوں کا محبوب“ کہہ کر پکارا گیا ہے اور اس میں کیا تھبہ ہے کہ آپ نے فبهداهم اقتدہ کے مطابق انبیاء کی پیروی کر کے اور اُن سے نور حاصل کر کے اپنے نور کی ٹھنڈی ٹھنڈی کرنوں سے ایک عالم کو منور کیا ہے۔لاکھوں انسانوں کے قلوب پر آپ نے اپنی محبت و شفقت کے گہرے نقوش چھوڑے اور انہیں شریعت کے اسرار و رموز سکھا کر مالا مال کر دیا۔یہ معنی تو اس لحاظ سے ہیں اگر الانبیاء سے سارے نبی مراد لئے جائیں۔لیکن اگر الانبیاء" سے مراد صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام لئے جائیں جیسا کہ آپ کا ایک الہام بھی ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء ھے اور حضور نے اپنے آپ کو قرآنی آیت اذا الرسل اقتت کا مصداق قرار دیا ہے تو ان معنوں کے لحاظ سے ”قمر الانبیاء کا مطلب یہ ہوگا کہ مسیح موعود کے انوار کو اپنے اندر لیکر ایک دنیا کو سیراب کرنے والا اور مسیح موعود کے انوار دراصل آپ کے اپنے ذاتی نہیں تھے بلکہ حضور نے بھی سب کچھ اپنے آقا و مقتداء آنحضرت ﷺ سے حاصل کیا تھا۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلب صافی نے