حیات بشیر — Page 98
98 اہمیت کو نہیں سمجھا۔آپ خود اپنی ایک رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں: ” مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے بہت سے احباب نے تربیت کے کام کی اہمیت کو جیسا کہ سمجھنا چاہیے نہیں سمجھا۔صرف کسی کو تبلیغ کے ذریعہ سے سلسلہ میں داخل کر کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ اپنے کام کو ختم کر چکے ہیں حالانکہ ہے حقیقت الامر یہ ہے کہ اس وقت سے کام شروع ہوتا ہے۔اس کی مثال ایسی جیسے کوئی شخص اپنے بچے کو سکول میں تعلیم کی غرض سے داخل کرائے اور سمجھ لے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے۔حالانکہ سکول میں محض داخل ہو جانا یا کروا دینا مقصد نہیں بلکہ تعلیم کو حاصل کرنا اور کرانا اصل مقصد ہے۔اسی طرح کسی کو پیغام حق۔پہنچا کر سلسلہ حقہ میں محض داخل کرا دینا اصل مقصد نہیں بلکہ سلسلہ میں داخل کر کے تربیت کے ذریعہ رُوحانیت کے اس اعلیٰ مقام پر پہنچانا اصل مقصد ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا گیا۔" اراضات سندھ کا معائنہ ۲۲۳ یکم فروری ۳۶ ء کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ اراضیات سندھ کے معائنہ کے لئے تشریف لے گئے تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی حضور کے ساتھ گئے۔۲۲۴ وقار عمل میں آپ کی شرکت ۱۲ مارچ کو قادیان میں وقار عمل منایا گیا تو جہاں اور بزرگان سلسلہ نے اپنے ہاتھ کام کیا وہاں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی اس وقار عمل میں شریک ہوئے اور آپ نے ریلوے ނ روڈ کی درستی کا کام اپنے ہاتھ سے کیا۔۲۲۵؎ ۱۶ رمئی کو پھر وقار عمل منایا گیا۔اس میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی شرکت فرمائی اور اپنے ہاتھ سے کام کیا۔۲۳۶ حضرت مسیح موعود کی کتب کے پانچ سیٹ جولائی ۳۶ء میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے پانچ انگریزی سیٹ مشہور لائبریریوں میں رکھوانے کے لئے اپنی گرہ سے خرید کر تقسیم فرمائے۔۔۲۲۷ درس القرآن اور درس عربی صرف ونحو کا اجراء اگست ۳۶ء میں آپ نے نظارت تعلیم و تربیت کی زیر نگرانی ایک ماہ کے لئے قادیان میں