حیات بشیر

by Other Authors

Page 58 of 568

حیات بشیر — Page 58

58 کی گئی تھی اس کے نیچے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی دستخط ثبت فرمائے۔۵۸ شاعری کا آغاز یہی سال ہے جس میں آپ کی شاعری کا آغاز ہوا۔چنانچہ میں آپ نے پہلی نظم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مدح میں کہی جس کا ایک شعر یہ ہے گئے اسلام کے خطرے کے دن جب سے کہ تو آیا خدا اُس زمانہ میں آپ احمد تخلص فرماتے تھے۔چنانچہ آپ کا ایک مقطع خواہش اگر کوئی تو احمد کی ہے کشتی اسلام کا اب ناخدا تو ہے ہے ہے یہی اسلام پر ہی دے مجھے پروردگار موت اسی طرح ایک اور نظم کا مقطع ہے احمد یہی دعا ہے کہ روز جزا نصیب تجھ کو نبی کریم کا قرب و جوار ہو گلدسته عرفان آپ کا مجموعہ کلام ۳۴ء میں گلدستہ عرفان کے نام سے کتاب گھر قادیان نے شائع کیا تھا۔آپ کا آخری کلام اکتوبر ۴۸ء میں شائع ہوا جس کا عنوان تھا اے مالک کون ومکاں آؤ مکیں کو لوٹ لو ۵۹ انگوٹھیوں کی تقسیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تین انگوٹھیاں تھیں۔ایک أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی۔دوسری پر آپ کا الہام غَرَسُتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِی وَقُدْرَتِی لکھا ہوا تھا اور تیسری پر صرف ”مولا بس“ لکھا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت ام المؤمنین نے یہ تینوں انگوٹھیاں قرعہ اندازی کے ذریعہ اپنے تینوں بیٹوں میں تقسیم کر دیں۔اس قرعہ اندازی کے مطابق دوسری انگوٹھی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے حصہ میں آئی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام درج ہے اذْكُرُ نِعْمَتِيَ الَّتِي انْعَمْتُ عَلَيْكَ غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِى وَرَحْمَتِي وَقُدْرَتِي یعنی میری اس نعمت کو یاد کر جو میں نے تجھ پر کی ہے میں نے تیرے لئے اپنے ہاتھ سے اپنی