حیات بشیر

by Other Authors

Page 408 of 568

حیات بشیر — Page 408

408 ہے۔ورنہ گو خدا کے رسول تو بہر حال غالب ہو کر رہتے ہیں مگر کم از کم جہاں تک انسانی کوشش اور ظاہری اسباب کا تعلق ہے جماعت کی ترقی محال ہے۔“ ۱۵ آپ کی نصائح آپ کی نصائح میں اہم خصوصیت یہ ہوا کرتی تھی کہ آپ ایسے لطیف اور مؤثر انداز میں بات کرتے تھے کہ وہ ساتھ ہی ساتھ ذہن میں اترتی چلی جاتی تھی۔محترم محمد اجمل صاحب شاہد مربی سلسلہ عالیہ احمدیہ پشاور کے ایک دوست کا واقعہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”دو سال قبل کی بات ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کی ملاقات کے وقت میرے ہمراہ پشاور سے ایک غیر از جماعت دوست تھے۔آپ کی کوٹھی ”البشری زائرین سے بھری ہوئی تھی اور خوب گہما گہمی تھی تھوڑی دیر کے بعد حضرت میاں صاحب اپنی بیماری کی حالت میں ہی باہر تشریف لائے اور دوست مصافحہ سے شرف یاب ہونے لگے۔خاکسار نے اپنے ہمراہی غیر از جماعت دوست کے مصافحہ کے وقت ان کا تعارف کرایا اور بتایا کہ یہ بیعت کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس پر حضرت میاں صاحب نے تمام دوستوں کو عموماً اور اس دوست کو خصوصاً مخاطب کر کے فرمایا: یاد رکھو کہ بیعت ایک دروازہ ہے کہ جس سے داخل ہو کر ایک انسان جماعت میں داخل ہوتا ہے۔اور بیعت کے بعد اصل کام کا وقت شروع ہوتا ہے۔بیعت ایک دار العمل کا پیش خیمہ ہے۔اس لئے اس کے بعد جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ان کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔666 اس پر اثر خطاب کا ذکر کرتے ہوئے محترم محمد اجمل صاحب فرماتے ہیں کہ البشری سے نکلنے کے بعد وہ دوست بہت خوش ہوئے اور اسی وقت بیعت کا فارم پر یر کر دیا۔۱۶ محترم بشارت احمد صاحب امروہی بیان فرماتے ہیں کہ جب وہ ۲۰ فروری ۱۹۶۳ء کو بورنیو کے لئے روانہ ہونے لگے تو روانہ ہونے سے قبل وہ آپ سے ملاقات کے لئے ”البشری“ گئے۔آپ نے انہیں اندر ہی بلا لیا اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ر مبلغ کو تین باتیں اچھی طرح ذہن نشین کرنی چاہئیں۔اول دعا۔دوم مطالعہ۔سوم محنت ان ہر سہ امور پر کار بند ہو کر ہی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔‘کا آپ فرمایا کرتے تھے کہ کام اگر محنت۔دیانت اور غور وفکر کے ساتھ کیا جائے تو سوائے اس کے کہ