حیات بشیر

by Other Authors

Page 211 of 568

حیات بشیر — Page 211

211 اور اپنی من مانی کاروائیاں کرنے پر اتر آتے ہیں۔خصوصاً ایسے لوگ جو صاحب امر بھی ہوں۔با اقبال بھی ہوں اور اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے ان کا یہ مقام ہو کہ ہزاروں لوگ ان کے اشارہ پر کٹ مرنے کیلئے تیار ہوں ایسے لوگ بھلا کسی کی کیا پروا کرتے ہیں۔مگر آپ ہیں کہ ایسے حالات میں بھی خدا اور رسول کے احکام کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے تھے۔اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحْمَدٍ وَ الِ مُحْمَدٍ۔حساس طبیعت طبیعت اس قدر حساس پائی تھی کہ آپ کے اعزہ اور ہر روز کے ملنے والے اگر بے وقت ملاقات کے لئے آجاتے تو آپ گھبرا جاتے تھے کہ پتہ نہیں خلاف معمول یہ شخص اس وقت کیوں آ گیا۔اس قسم کے واقعات کی مثالیں تو بہت کافی ہیں لیکن میں صرف ایک ہی مثال پر اکتفا کرتا ہوں۔مکرم میاں نعیم الرحمان صاحب کا بیان ہے کہ: میں (عموماً) مغرب سے ذرا پہلے آپ کے پاس جایا کرتا تھا۔ایک دن عصر کی نماز کے بعد چلا گیا۔پہریدار نے اطلاع بھجوائی میں ابھی گیٹ سے برآمدے کی جانب ہی جا رہا تھا کہ کمرہ کا دروازہ کھلا اور حضرت میاں صاحب ننگے پاؤں ہی گھبراہٹ کے انداز میں باہر برآمدے میں تشریف لے آئے اور آتے ہی فرمانے لگئے کیوں خیر تو ہے میں نے عرض کی جی ہر طرح خیریت ہے میں تو صرف دعا کی غرض سے حاضر ہوا تھا۔فرمانے لگے۔آپ کے اس طرح اچانک آنے سے تو میں گھبرا گیا تھا۔کہ خدا نخواستہ کوئی حادثہ ہی نہ ہو گیا ہو۔“ میاں نعیم الرحمان صاحب فرماتے ہیں: مجھے اپنے اس فعل پر شرمندگی بھی ہوئی اور اپنی غلطی کا احساس بھی کہ خواہ مخواہ میاں صاحب کو پریشان کیا۔اس کے بعد آپ مجھے اندر کمرہ میں لے گئے اور وہیں گھر کے حالات دریافت فرماتے رہے۔“ ۲۵ صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب فرماتے ہیں کہ آپ: پچھلے سال عید کے موقعہ پر کچھ بیمار تھے۔کمزور بھی تھے عید کے بعد لوگوں نے مصافحہ شروع کر دیا۔اور آپ کو مسجد میں کچھ عرصہ رکنا پڑا۔بڑی کوفت ہوئی میں نے عرض کیا کہ اس بیماری کی حالت میں خواہ مخواہ کوفت کیوں اُٹھائی۔فرمانے