حیات بشیر — Page 122
122 حضرت اماں جان: ”میرا پیغام یہی ہے کہ میری طرف سے سب کو سلام جماعت کو چاہیے کہ تقویٰ اور دینداری پر قائم رہے اور اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی طرف سے کبھی غافل نہ ہو۔اسی میں ساری برکت ہے۔میں جماعت کے لئے ہمیشہ دُعا کرتی ہوں۔جماعت مجھے اور میری اولاد کو دعاؤں میں یاد رکھے۔“ مرزا بشیر احمد صاحب ” یہ حضرت ام المؤمنین اطال اللہ ظلها حال مقیم ربوہ کا جماعت احمدیہ کے نام پیغام ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی دعا کی تحریک توفیق دے اور حضرت اماں جان کی صحت اور عمر اور فیوض میں برکت عطا کرے۔‘ ۳۱۶ مارچ ۵۲ء میں آپ نے حضرت ام المؤمنین کی تشویشناک علالت پردعا کی تحریک کرتے ہوئے جماعت کو توجہ دلائی کہ حضرت ام المؤمنین کی زندگی کے ساتھ کئی برکت کے سائے وابستہ ہیں۔۳۱۷ ٹھیکہ داری کی شرائط اپریل ۵۲ء میں آپ نے اعلان فرمایا کہ اکثر دوست جو ربوہ میں مکان تعمیر کرواتے ہیں وہ ناواقفیت کی وجہ سے یا تو ٹھیکہ داروں سے کوئی تحریری شرائط طے ہی نہیں کرتے یا غلطی سے ایسی شرائط طے کر لیتے ہیں جو سراسر نقصان دہ ہوتی ہیں۔اس مشکل کو دور کرنے کے لئے معاہدہ ٹھیکہ داری کی ایک مستقل فارم تجویز کر کے طبع کرائی گئی ہے جس کے مطابق کام کرنے سے انشاء اللہ ہر طرح فائدہ رہے گا اور فریقین میں کسی قسم کا جھگڑا پیدا نہیں ہوگا اور اگر ہوا تو آسانی سے طے ہو سکے گا کیونکہ اس میں فریقین کے حقوق پوری طرح محفوظ کر دیئے گئے ہیں۔۳۱۸ مشتر کہ صدقہ اپریل ۵۲ ء میں حضرت ام المؤمنین کی تشویشناک علالت پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سارے خاندان کی طرف سے مشترکہ صدقہ کا انتظام کیا۔لیکن چونکہ بعض اوقات رقوم کے اعلان سے بعض کمزور طبیعتوں میں تکلف یا ریاء وغیرہ کا رنگ پیدا ہوجاتا ہے۔اس لئے آپ نے یہ تجویز فرمایا کہ کسی قسم کی رقم نوٹ نہ کی جائے بلکہ جو رقم کوئی عزیز اپنے حالات کے ماتحت