حیات بشیر

by Other Authors

Page 85 of 568

حیات بشیر — Page 85

85 ہے۔مارچ ۲۸ء میں ہی جب سائمن کمیشن لاہور پہنچا تو جماعت احمدیہ کے معززین کا ایک وفد اس کی ملاقات کے لئے گیا۔اس وفد میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی شریک ہوئے۔۷۴ے ۲۱ جون ۲ ء کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ ڈلہوزی تشریف لے گئے تو حضور نے اپنے بعد پہلی مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو مقامی امیر مقرر فرمایا۔۷۵لے مقامی امیر کی پوزیشن آپ کو اپنی امارت کے ایام میں بڑی سختی کے ساتھ اس امر کا احساس ہوا کہ قادیان کے جماعت میں بعض احباب کو غلط فہمی ہو رہی ہے منصب امارت کے متعلق اور وہ سمجھتے ہیں کہ قادیان کے امیر کو وہی یا قریباً قریباً وہی اختیارات حاصل ہیں جو خلیفہ وقت کو خدا کی طرف سے حاصل ہیں۔چنانچہ آپ نے مقامی امیر کی پوزیشن کے زیر عنوان ایک مضمون لکھا اور اس امر کی وضاحت فرمائی کہ گویہ درست ہے کہ مقامی امیر اپنے حلقہ میں خلیفہ وقت کا قائمقام ہوتا ہے مگر اس کی پوزیشن ایسی ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقامات کے مقامی امیروں کی۔گو اس میں شک نہیں کہ مرکز کی اہمیت کی وجہ سے اسکی ذمہ داری دوسرے امراء سے زیادہ ہے۔لیکن بہر حال وہ ایک مقامی امیر ہے۔اسے کوئی زائد اختیار یا زائد رتبہ دوسرے مقامی امیروں پر حاصل نہیں ہے۔ستمبر 17ء کے آخر میں سیرۃ خاتم النبین حصہ دوم لکھنے کیلئے آپ کو نظارت تعلیم وتربیت کے کام سے فارغ کر دیا گیا اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو ناظر تعلیم وتربیت مقرر کر دیا گیا۔کلام مارچ ۲۹ ء میں جب مجلس شوری میں نظارتوں کی طرف سے سالانہ کار گذاری کی رپورٹیں پیش ہوئیں تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی اپنے کام کی رپورٹ پیش کی اور اس میں تحریر فرمایا کہ: ابتداء جس طرح میں نے اس کام (یعنی سیرۃ خاتم النبیین کے کام) کو شروع کیا تھا وہ رنگ اور تھا اور اب اور ہے۔اس وقت میں نے اپنی رائے اور خیال سے اپنی ذاتی ذمہ داری کی بناء پر ریویو آف ریلیجنز کے نمبروں میں ”سیرۃ خاتم النبیین کے متعلق ”ہمارا آقا “ کے عنوان کے ماتحت ایک سلسلہ مضامین شروع کیا