حیات بشیر — Page 82
82 اسی ماہ میں مجلس مشاورت کا اجلاس منعقد ہوا تو بعض دوستوں کے ناواجب سوالات پر جو کارکنان سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے حضور نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ سلسلہ کے بہت سے کام ایک کمیٹی کے مشورہ سے طے پاتے ہیں جس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے علاوہ ۱۲ ممبر ہیں۔کیا یہ سب مل کر کوئی بد دیانتی کر سکتے ہیں۔میری عقل تو اس بات کو نہیں مان سکتی۔وھا۔مئی ۲۵ء میں پھر احمد یہ ٹورنامنٹ ہوا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی مساعی جمیلہ اور سرگرم دلچسپی سے انتظام بہت اعلیٰ رہا۔اختتام پر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست مبارک سے انعام تقسیم فرمائے جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضور کے سامنے پیش کرتے جاتے تھے۔۱۲۰ جون ۲۵ء میں آپ تبدیلی آب وہوا کیلئے منصوری تشریف لے گئے اور قریباً اڑھائی ماہ وہاں قیام فرمانے کے بعد ۱۵ ستمبر کو قادیان تشریف لائے۔۱۷۲ نومبر ۲۵ء میں سال رواں کی دوسری ششماہی کا ٹورنامنٹ ہوا تو اس میں بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے انتظامی رنگ میں حصہ لے کر کھیلنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔۱۱۳ ۱۹۲۶ء کے واقعات ۱۹۲۶ء کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ”سيرة المہدی اور غیر مبائعین“ کے زیر عنوان چودہ قسطوں میں ایک مبسوط مضمون لکھ کر ان تمام اعتراضات کا نہایت مسکت اور مدلل جواب دیا جو ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے سیرۃ المہدی کی روایات پر کئے تھے یہ مضمون مئی ۲۶ء سے ستمبر ۲۶ء تک الفضل کے مختلف پرچوں میں شائع ہوتا رہا۔جولائی ۲۶ء میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بھائی صحت کیلئے ڈلہوزی تشریف لے گئے تو حضور نے مقامی امیر حضرت مولوی شیر علی صاحب کو مقرر فرمایا اور ضروری امور سے ے متعلق مشورہ کرنے کیلئے تین اصحاب پر ر مشتمل ایک کمیٹی مقرر فرمائی جس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی شامل تھے۔۴۔اگست ۲۶ ء میں خان ذوالفقار علی خانصاحب گوہر نائب ناظر اعلیٰ رخصت پر شملہ گئے تو ان کی جگہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو نائب ناظر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔۱۲۵ ۴ ستمبر کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ڈلہوزی تشریف لے گئے اور ۱۳/ اکتوبر کو واپس تشریف لائے ۱۵ اکتوبر ۲۶ء کو آپ نے پھر نظارت تعلیم و تربیت کا چارج لے لیا۔11