حیات بشیر — Page 64
64 مئی ۱۹۱۷ ء میں آپ نے بی۔اے کا امتحان دیا اور اس کے بعد قادیان تشریف لے آئے لیے یہاں آنے کے بعد آپ نے پھر آنریری طور پر تعلیم الاسلام ہائی سکول میں مدرسی کے فرائض سرانجام دینے شروع کر دیے لیے اس کے ساتھ ہی افسر مدرسہ احمدیہ کا عہدہ بھی آپ کے سپرد کر دیا گیا۔۸۳ الفضل کی ادارت مارچ ۶۱۴ ہ تک الفضل کی عنان ادارت حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں تھی۔مگر چونکہ ۱۴؍ مارچ کو اللہ تعالیٰ نے آپکو مسند خلافت پر متمکن فرما دیا اسلئے ۲۱ / مارچ ۱۴عہ الفضل کی پیشانی پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا نام بطور ایڈیٹر شائع ہونے لگا اور ۲۷ اگست ۱ء تک آپ کا نام چھپتا رہا۔چونکہ اس زمانہ میں اخبار پر ایڈیٹر کا نام لکھنا ضروری نہ تھا۔اس لئے اس کے بعد آپ کا نام لکھنا ترک کر دیا گیا۔- بی۔اے میں کامیابی جولائی 10 ء میں بی۔اے کا نتیجہ نکلا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کامیاب ہوگئے۔الفضل نے آپ کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کر تے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مسیح محمدی کے بیٹے کی انگریزی دانی مسیح ناصری کی بگڑی ہوئی امت کی اصلاح میں مفید اور نافع الناس بنائے اور احمد رسول کی درماندہ قوم کیلئے آپ کا وجود باجود قمر الانبیاء ثابت ہو۔“ ۱۴ کلمۃ الفصل کی تیاری اکتوبر 1 ء سے آپ نے اپنی مشہور تصنیف ” کلمۃ الفصل“ لکھنے کی تیاری شروع کی۔۸۵ طلباء کی تربیت جنوری ۱۵ء میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء میں تقسیم انعامات کا ایک جلسہ ہوا۔الفضل نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب افسر مدرسہ احمدیہ کی کوششوں کو خاص طور پر سراہا اور لکھا کہ آپ کی توجہ سے طلباء میں شائستگی بڑھ رہی ہے۔چنانچہ وہ انعام لینے اور اس کیلئے آنے جانے اور اُٹھنے بیٹھنے میں ایک خاص نظام اور ادب کے ماتحت رہے۔القول الفصل اور حقیقة النبوة کا مضمون سنانا ۷ فروری ۱۵ء کو آپ نے اپنی مشہور تصنیف "کلمۃ الفصل“ کا مضمون ایک بہت بڑے