حیات بشیر — Page 497
497 وہ گل جس کے دم سے تھا حسن چمن اب سمیع اللہ صاحب قیصر انچارج احمد یہ مشن بمبئی) وہ گل جس کے دم سے تھا حسن چمن ساقی وہ جو تھا رونق انجمن صداقت کا نیمروز نیر وہ وہ نور چراغ ہدایت فروز وہ شمس و قمر کا رفیق و ندیم وه علوم وہ صدق خلیل وفاء کلیم و معارف کا روشن گہرا محل نبوت کا شیریں ثمر سدا کے گیت گاتا تھا جو ظل ہما وہ خدائی بشارت سناتا تھا وہ میں ہمیشہ رہا جسے چاند نبیوں کا حق نے کہا وہ صاحب جنوں اور وہ نکتہ نواز وہ روشن ضمیر اور وہ دانائے راز وہ رشک فلک جس کا تھا آستاں فرشتے جھکاتے تھے گردن وہ خلق مجسم تھا کردار میں ابلتے وہ تھا جس کی باتوں میں سوز و گداز بتاتا تھا راه تھے نغمات گفتار جہاں میں تھا جو زندگانی کا راز وفا میں جو ثابت قدم جسے چاند نبیوں کا کہتے تھے ہم مگر اب کہوں ہائے کیسے بات کہ توڑا قضا نے وہ جام حیات کہوں کس طرح اس جدائی کا حال جس کا ابھی تھا نہ خواب و خیال روپوش ہے اب سنج مرقد میں خاموش وہ ہوا آج دنیا ނ وہ قضا نے چلایا وہ تیر و نظر آج وقف الم چمن جل گیا 6 میکدہ کٹ گیا وہ ساقی بھری بزم سے اٹھ گیا ہے دل تیری فرقت میں نوحہ کناں نور نگاه مسیح زماں اب بزم دنیا سے مستور ہے آنکھ اشک ریزی مجبور ہے گیا پھول کے رُخ سے رنگ بہار فضائ چمن ہو کئی سوگوار