حیات بشیر — Page 36
بسم الله الرحمن الرحيم 36 نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود عزیز مکرم شیخ محمد احمد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ چلاتے تین دن ہوئے ایک عجیب خواب دیکھا۔دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے مکان کے سامنے جو رستہ گذرتا ہے اس میں جارہا ہوں حضرت خلیفہ اول کی ڈیوڑھی اور مفتی فضل الرحمن صاحب مرحوم کی ڈیوڑھی مشترک تھی اس کے سامنے پہنچا تو اس میں دو تین معمولی سے گھوڑے بندھے ہوئے ہیں۔جو مستی میں آکر ایک دوسرے کو کاٹتے اور دولتی ہیں آگے چوک کی طرف گیا تو بہت سی بھینسوں کا نظارہ دیکھا۔مگر انہوں نے میرے راستہ میں مزاحمت نہیں کی اور میں آگے گذر گیا اور اس گلی کی طرف گھوما جو قصر خلافت اور میرے مکان کی طرف جاتی ہے تو اس گلی میں آپ کے والد صاحب مرحوم حضرت منشی ظفر احمد صاحب نظر آئے نہایت روشن چہرہ اور بے حد بارونق رنگ سفیدی اور سرخی کی آمیزش لئے ہوئے دیکھا۔پاس ایک گھوڑا کمیت رنگ کا نہایت اعلیٰ چمکتا ہوا جسم کھڑا ہوا تھا۔اس پر حضرت منشی صاحب مرحوم سوار ہو کر مشرق کی جانب سلام کر کے روانہ ہو گئے۔گویا کسی اجتماع پر آئے تھے اور اب واپس جاتے ہیں میں نے کسی انسان کا اتنا بارونق اور چمکتا ہوا شفاف چہرہ اور کسی گھوڑے کا ایسا چمکتا ہوا رنگ نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ مبارک کرے یہ عشق و محبت کا کرشمہ۔ہے۔خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۶۰-۷-۲ کئی وجوہ سے خاکسار نے اس رویا کو شائع کرنا مناسب سمجھا ہے نوشته بماند سیاه بر سفید نویسنده رانیست فروا امید كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاکرام