حیات بشیر

by Other Authors

Page 307 of 568

حیات بشیر — Page 307

307 رکھتے ہیں کہ جب اس جسم کا کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو باقی ماندہ جسم بھی اس بیمار عضو کی ہمدردی میں بے چینی اور بخار اور سوزشِ اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔یہ حدیث آپ نے لکھی ہی تھی کہ بغیر کسی سابقہ انتباہ کے آپ کو نقرس کے حملہ نے اچانک آدبوچا اور بائیں پاؤں کے ٹخنے میں اس شدت کا درد اُٹھا کہ چند منٹوں کے اندر اندر چلنا پھرنا تو در کنار بستر کے اندر یاؤں ہلانا بھی مشکل ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں میں نے دل میں کہا شاید نیرنگی قدرت کے اس فلسفہ کا پہلا سبق خدا مجھ کو ہی دینا چاہتا ہے اور مجھے کچھ عرصہ کے لئے بے چینی اور بخار کے لئے بھی تیار ہو جانا چاہیے۔چنانچہ یہی ہوا کہ درد تو صرف بائیں پاؤں کے ٹخنے میں تھا اور ماؤف مقام غالباً ایک انچ قطر سے زیادہ نہیں ہو گا مگر دیکھتے ہی دیکھتے جسم یوں تپنے لگا کہ جیسے قدرت کی کسی غیر معمولی بھٹی نے سارے جسم میں جلد کے نیچے دہکتے ہوئے کوئلوں کی تہہ بچھادی ہے اور اس کے ساتھ بے چینی اور اضطراب کا وہ عالم تھا کہ الاماں۔اس شدید تکلیف کی حالت میں آپ فرماتے ہیں: اس وقت میں یقیناً اس سوچ میں پڑ گیا کہ اس تکلیف دہ بیماری سے ے شفا پانے کی دعا پہلے کروں یا کہ اس تازہ بتازہ فطری سبق پر خدا کا شکریہ پہلے ادا کروں۔۱۰۹۔رُبَّ اشْعَتَ اَغْبَر کے مصداق حدیث میں آتا ہے بعض پرا گندہ مو اور غبار آلودہ یعنے سادہ مزاج بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب وہ کوئی بات اپنی زبان سے نکالیں کہ یوں ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اُن کی زبان کی لاج رکھ لیتا ہے اور ویسا ہی کر دیتا ہے حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی خدا کے بندوں میں سے تھے۔محترمہ مبارکہ قمر صاحبہ اہلیہ محترم ڈاکٹر بشیر احمد صاحب گولبازار ربوہ لکھتی ہیں: ”میرے ہاں جب چھٹی بچی پیدا ہوئی تو میں (قادیان دارالامان سے) واپس پاکستان آچکی تھی۔اطلاع ملنے پر حضور نے مجھے بڑا تسلی کا خط لکھا اور جب میں کچھ عرصہ بعد ملاقات کے لئے حاضر ہوئی تو تسلی دیتے ہوئے فرمانے لگے کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ ضرور لڑکا دے گا۔میں نے عرض کیا۔حضور! میری صحت اب بہت کمزور ہو گئی ہے۔بلڈ پریشر کی بھی مریضہ ہو چکی ہوں۔دعا فرمائیں کہ اب بچہ پیدا نہ ہو۔فرمایا ایسا مت کہو اور ناامید نہ ہو۔پھر میں نے اصرار کیا اور کہا اب