حیات بشیر — Page 30
30 قانون ملکی سے آپ واقف تھے اور بہت سے موقعوں پر خاکسار نے آپ کو قانونی نکات بیان کرتے دیکھا ہے۔ظاہر ہے کہ جو لوگ کسی جماعت کے رہنما مصنف مبلغ یا مدیر ہوں انہیں ایک حد تک ملکی قانون سے واقفیت رکھنا بھی ضروری ہے۔تقسیم ملک سے پہلے آپ کی دور اندیش نظر نے آنے والے واقعات کا اندازہ لگایا اور اس کے متعلق سبق آموز مضامین لکھے۔بعد میں آنے والے واقعات نے آپ کی فراست کی تصدیق کی۔قادیان سے ہجرت ایک بڑا دشوار گزار مرحلہ تھا، آپ کی حوصلہ مندی اور حسن انتظام سے آپ کے ساتھی بھی اثر پذیر ہوئے اور سب نے مل کر تنظیم اور تعاون کے ساتھ یہ کٹھن منزل اس عمدگی سے طے کی کہ تمام اہل قادیان صحیح سلامت اور عزت کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے حکم کے ماتحت آپ کو بھی قادیان سے لاہور آنا پڑا۔لیکن اہل قادیان کے لئے آپ نے مشکلات کو آسان کر دیا تھا، حسن تدبیر سے، حسن انتظام سے اور دعاؤں سے۔قادیان کے درویشوں کی خدمت ایک بہت ہی مشکل اور پیچیدہ معاملہ تھا اور ہے۔اس کی تفاصیل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔قادیان کے ہر درویش کے حالات کو نگاہ میں رکھنا اس کے رشتہ داروں اور متعلقین کی مشکلات کا دُور کرنا ہر درویش کے لئے آرام و آسائش کا بہم پہنچانا۔بیماروں کی تیمارداری، ناداروں کی حاجت روائی کوئی تنازعات یا مقدمات پیدا ہوں تو ان کو نپٹانا۔حکومتوں سے ربط و ضبط رکھنا۔جلسہ سالانہ پر وفود کا بھیجنا یہ اور اس قسم کے سینکڑوں کام تھے۔جنہیں آپ تن تنہا سر انجام دیتے تھے اور ظاہر ہے کہ ہر کام اس قسم کا تھا جس میں انتہائی احتیاط اور تذبر کی ضرورت تھی۔ہر درویش اور اس کے رشتہ دار سے آپ کو محبت تھی۔ایسی محبت جو اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے ہوتی ہے اور ہر ایک کی تکلیف کو آپ اپنی تکلیف جانتے تھے۔خاکسار کو خدمت درویشاں کے سلسلہ میں آپ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔کیونکہ بہت سے قانونی امور میں آپ ازراہِ کرم خاکسار سے مشورہ لیتے تھے۔اور اس کی قدر فرماتے تھے۔اور یہ آپ کا قاعدہ تھا کہ جو شخص اچھا کام کرے اس کے قدردان اور شاکر ہوتے تھے اس قدردانی اور محبت کا