حیات بشیر — Page 29
29 انہی اوصاف اور کمالات کی وجہ سے آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے معتمد علیہ رفیق اور دست راست تھے اور جیسا کہ الہی جماعتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے سنت ہے ہماری جماعت کو کئی مشکل مرحلوں اور ابتلاؤں میں سے گذرنا پڑا ہے۔ایسے موقعوں پر خاکسار نے آپ کے اندر ایک عجیب شجاعت اور توکل علی اللہ کی روح دیکھی۔مشکلات اور مصائب کے اندر آپ کے علمی اور عملی جوہر اور زیادہ روشن ہو جاتے تھے اور جس مجلس میں آپ موجود ہوں۔آپ کے رفقائے کار کو یہ یقین اور اطمینان ہوتا تھا کہ پیش آمدہ مشکل پر انشاء اللہ قابو پا لیا جائے گا۔آپ کی سیرت کا یہ ایک مستقل باب ہے اور کثیر واقعات اس کی تائید میں پیش کئے جا سکتے ہیں۔آپ قرآن وحدیث کے متبحر عالم تھے اور زبان عربی انگریزی اور اردو پر پوری قدرت رکھتے تھے۔تحریر ہو یا تقریر کوئی ایسا لفظ استعمال نہ کرتے تھے جو رکیک یا دلآزار ہو اور میانہ روی کے خلاف ہو۔آپ کی تحریر گویا ایک قانونی مسودہ ہوتی تھی جس کا ہر لفظ جچا تلا اور برمحل ہوتا تھا۔یہ احتیاط نہ صرف تصانیف کے اندر پائی جاتی تھی۔بلکہ روز مرہ کتابت میں بھی مد نظر رہتی تھی۔خطوں میں بھی کوئی لفظ ایسا نہ ہوتا تھا جس میں مخاطب کے جذبات اور نفسیات کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو۔کیونکہ آپ کو یہ عرفان حاصل تھا کہ انسان کی فطرت معزز واقعہ ہوئی ہے اور کسی تحقیر کو برداشت نہیں کر سکتی۔آپ کے مخاطب دوست بھی ہوتے تھے اور مخالف اور دشمن بھی۔لیکن آپ ہمیشہ اپنی تحریر میں نرمی اور میانہ روی اختیار کرتے تھے۔ایسی نرمی جو دلوں کو موہ لیتی ہے اور بیگانوں کو اپنا بنا دیتی ہے۔آپ کی تصانیف سے عیاں ہے کہ آپ بہت بڑے تاریخ دان قلم کے بادشاہ زبان کے استاد تحقیق مسائل میں دوررس نظر رکھنے والے محنت اور کاوش کے عادی تھے اور آپ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ کوئی مضمون تشنہ اور نا مکمل نہ رہے یہ وہ خوبی ہے جو ہمارے اہل قلم اصحاب کیلئے ایک اُسوہ ہے۔آپ کا خط بہت پاکیزہ تھا۔مائیقریٰ لکھتے اور سطروں میں زیادہ فاصلہ ڈالتے تاکہ پڑھنے والے کی نگاہ پر بار نہ ہو اسلوب تحریر ماقل و دل اور اطناب سے بری۔