حیات بشیر

by Other Authors

Page 144 of 568

حیات بشیر — Page 144

144 اللہ تعالیٰ مجھے صحت اور خدمت کی زندگی نصیب کرے۔میری لغزشیں معاف فرمائے۔میری کمزوریاں دور کرے۔میری سیئات کو حسنات سے بدل دے۔مجھے بے حساب بخشش پانے والے گروہ میں شامل فرمائے اور میرا انجام بخیر ہو۔“ ہے سيرة المہدی حصہ چہارم و پنجم کا م کا مسودہ جون ۵ء میں آپ نے اعلان فرمایا کہ میرے پاس سیرۃ المہدی حصہ چہارم اور پنجم کا مواد موجود تھا مگر چونکہ اب میری صحت خراب رہتی ہے اور زندگی کا اعتبار نہیں اس لئے میں نے ان دونوں حصوں کے مسودے میر مسعود احمد صاحب فاضل پسر حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے سپرد کر دیے ہیں اور انہیں سمجھا دیا ہے کہ اگر اور جب انہیں ان حصوں کو مدوّن کر کے شائع کرنے کا موقع ملے تو نہ صرف روایات کو عقل ونقل کے طریق پر اچھی طرح چیک کر کے درج کریں بلکہ جہاں جہاں تشریح کی ضرورت ہو وہاں تشریحی نوٹ بھی ساتھ دے دیں۔آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ اس مسودہ میں حضرت خلیفہ اول کی اس وصیت کا اصل کاغذ بھی شامل ہے جو حضور نے اپنی مرض الموت میں آئندہ خلیفہ کے انتخاب کے بارہ میں تحریر فرمائی ما تھی۔اسی طرح اس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بعض دستی تحریریں بھی شامل ہیں اور اس قرعہ کے کاغذات بھی اس مسل میں ہیں جو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اور حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں اور ان کے ذریعہ حضرت مسیح موعود ال کی تین انگوٹھیاں ہم تینوں بھائیوں میں تقسیم ہوئی تھیں۔ہے حقیقی احمدیت کیا ہے ستمبر ۵۸ ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کراچی نے اپنے سالانہ اجتماع کے موقع پر آپ سے کسی پیغام کی خواہش کی۔چنانچہ آپ نے انہیں پیغام بھجوا دیا جس میں دو باتوں کی تلقین کی۔اول یہ کہ آپ حقیقی خدا پرست احمدی بن جائیں تا آپ اسلام اور احمدیت کے زندہ نمونہ ہوں اور زندگی کے ہر شعبہ میں آپ کے قول و فعل میں یگانگت پائی جائے۔دوم آپ دیانتداری سے اس عقیدہ کی تبلیغ کریں جس پر آپ خود ایمان رکھتے ہیں اور عمل پیرا ہیں۔یہی حقیقی احمدیت اور حقیقی اسلام ہے۔۴۵ اپنے دلوں کو رُوح القدس کے نزول کا نشیمن بناؤ ۲۶ تا ۲۸ ستمبر ۵۸ مجلس خدام الاحمدیہ راولپنڈی نے اپنے علاقہ میں ایک بڑے اجتماع کا انتظام کیا۔اس وقت بھی آپ نے خدام کو اپنے پیغام سے نوازا اور انہیں نصیحت فرمائی کہ