حیاتِ بقاپوری — Page 83
حیات بقا پوری 83 پائی لے کر باہر آیا۔بیٹھتے ہی میں نے لڑکی کے رخصتانہ کی بات چیت شروع کر دی اور کہا کہ میں ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی اجازت سے آیا ہوں۔اور ہر ناظر صاحب ہفتہ واری رپورٹ حضرت صاحب کے حضور پیش کرتے ہیں جس میں ہر مبلغ کی کاروائی کا ذکر ہوتا ہے۔اب اگر تم رخصتانہ نہ کرو گے اور میرے ان دنوں کے متعلق ذکر آیا کہ مولوی بقا پوری صاحب کو حافظ صاحب کی بہو کے رخصتانہ کے سلسلہ میں بھجوایا گیا تھا لیکن حافظ صاحب کے بھائی نے لڑکی کا رخصتانہ نہ کیا۔تو یہ بات آپ کے لیے خفت کا موجب ہوگی۔پس مالی تنگی کا عذر درست نہیں کیونکہ تمہارا سمبندھی تمہارا بھائی ہے۔اُسے یہ خیال بھی نہ آئے گا کہ میری بھتیجی کچھ لائی ہے یا نہیں۔نیز اسی وقت رخصت کرنے سے آپ کا عذر بھی معقول ہے کہ مولوی بقا پوری نے جلدی کرائی اور ایک دن میں کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ایسی باتیں ہوتی رہیں تو اٹھتے وقت کہنے لگا میں تو رخصتانہ کرنے پر رضامند ہوں لیکن اسکی والدہ نہ مانے گی۔میں نے کہا دو پہر کا کھانا تو تم نے مجھے باہر کھلایا ہے رات کو کھانا مجھے اندر کھلانا۔میں آپ کی بیوی کو بھی سمجھالوں گا۔آخر میں نے رات کو اس کی بیوی کو بھی رضامند کر لیا لیکن اتنی ترمیم ہوئی کہ انہوں نے کہا بجائے کل کے دو دن کے بعد بھیجیں گے۔چنانچہ انہوں نے لڑکی کو خوشی خوشی بھیج دیا۔امرت سر آکر میں نے حافظ صاحب کو تار دے دیا۔اس سے ہمارے محلہ میں بڑا چرچا ہو ا که مولوی بقا پوری کی حکمت عملی سے دو گھر سدھر گئے۔۳۹ مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی سے ملاقات ایک دفعہ قادیان جاتے ہوئے خاکسار اپنے ماموں زاد بھائی کے پاس لاہور میں ٹھہرا جو چکڑالوی تھا۔وہ مجھے اصرار کر کے مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی کے پاس لے گیا کہ میں ان سے علمی مذاکرہ کروں۔جب ہم پہنچے تو مولوی صاحب نماز پڑھ رہے تھے۔فارغ ہونے پر میرے بھائی نے کہا کہ یہ قادیان اپنے امام کے پاس جارہے تھے میں انہیں علمی مذاکرہ کے لیے آپ کے پاس لایا ہوں۔جو یہ پوچھیں آپ اس کا جواب دیں۔مولوی صاحب نے کہا میں جواب تو دوں گا لیکن یہ تو مرزا صاحب کو اپنا امام کہتے ہیں حالانکہ قرآن پاک نے تو رات کو امام کہا ہے۔میں نے کہا آج آپ کی بات سے میری ایک غلط فہمی دور ہوگئی کہ قرآن پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو امام کہا گیا ہے جیسا کہ فرمایا انی جاعلک للنَّاسِ اِمَاماً (۱۲۵:۲)۔میں تو سمجھتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام انسان تھے لیکن آج معلوم ہوا کہ ابراہیم بھی کسی کتاب کا نام ہے۔اس پر مولوی صاحب بہت کھسیانے ہو گئے۔پھر میں نے کہا