حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 54 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 54

حیات بقاپوری 54 نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ امام الصلوۃ وہاں بیٹھے ہیں۔ہم نے کہا کہ ہم احمدی ہیں اور عشاء کے بعد وعظ کرنا چاہتے ہیں۔اس پر امام صاحب کہنے لگے کہ میں بھی بیعت کر آیا تھا۔گاؤں والے مخالف ہو گئے۔اب میں انکار کر چکا ہوں تو میرے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔آپ وعظ نہ کریں۔جن کے ہاں ہم مہمان تھے انہیں کہا کہ آپ کھانا جلد کھلا دیں، ہم نے وعظ کرتا ہے۔انہوں نے بھی منع کیا کہ یہ لوگ آپ کی بے عزتی کریں گے اور اس سے ہمیں دُکھ پہنچے گا۔ہم نے جواب دیا کہ اگر ہماری بے عزتی ہوگی تو آپ سے کوئی گلہ نہ ہوگا۔ہم کھانا کھا کر مسجد میں جاپہنچے۔امام مسجد نے کہا اگر محمد خان نمبر دار مان جائے تو پھر وعظ کر سکتے ہیں۔وہ سخت مخالف ہے۔اس پر میں نے بلند آواز سے کہا کہ نمبردار صاحب آگئے ہیں! وہ بولا میں وضو کر رہا ہوں ابھی آیا۔میں نے کہا ہم آپ کے گاؤں میں بطور مسافر ٹھہر گئے ہیں کچھ قرآن کریم سنانا چاہتے ہیں۔اس نے کہا پہلے ہمارے ساتھ نماز پڑھیں پھر قرآن سنائیں۔میں نے کہا چوہدری صاحب آپ کو معلوم ہے کہ ہم آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے اس لیے میں فقط آپ کو قرآن سناؤں گا۔غرض اس طرح ردو کر کے بعد میں نے کہا ہمیں افسوس ہو گا کہ آپ مسلمان ہو کر قرآن سننا پسند نہیں کرتے۔آخر اس بات پر فیصلہ ہوا کہ مرزا صاحب کا نام بالکل نہ لیں اور عام وعظ کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کریں۔اور انہوں نے ہم کو صف دے دی کہ پہلے آپ نماز پڑھ لیں پھر ہم پڑھیں گے۔نماز سے فراغت کے بعد میں اٹھا اور وعظ میں حضرت نبی اکرم کی تکالیف اور تبلیغی مشکلات کا ذکر کیا اور پھر ائمہ دین اور مجددین نے اشاعت اسلام کی راہ میں جو جو مصائب اٹھائے ان سب امور کو ڈیڑھ گھنٹہ تک بیان کیا۔لوگ توجہ سے سنتے رہے۔کچھ تصوف کے مسائل بھی بیان کئے۔آخر میں میں نے کہا دیکھو میں نے مرزا صاحب کا حسب وعدہ کوئی ذکر نہیں کیا۔وگرنہ میرے لیے ضروری تھا کہ میں سنا تا کہ حدیث شریف میں امام مہدی اور مسیح محمدی کی یہ یہ علامات آئی ہیں اور یہ سب مرزا صاحب میں پائی جاتی ہیں۔اور فلاں فلاں نشانیوں کا ذکر ہے مثلاً سورج گرہن چاند گرہن کا رمضان شریف کے اندر مقررہ تاریخوں پر ظاہر ہونا اور وہ سب نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔اور یہ ذکر بھی کرتا کہ وفات مسیح ناصری قرآن کریم کی فلاں فلاں آیت سے ثابت ہے۔اور امتی نبوت کے جاری اور باقی ہونے کا قرآن کریم کی فلاں فلاں آیت سے ثبوت ملتا ہے۔چونکہ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا اس لیے میں نے ان امور کا ذکر نہیں کیا۔جب وقت زیادہ ہو گیا اور اس پر مزید پون گھنٹہ گذر گیا تو حاضرین میں سے ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب اب بہت وقت گذر گیا ہے اور جو کچھ آپ نے کہنا تھاوہ کہہ بھی لیا ہے اب دعا کریں۔اس پر میں نے وعظ ختم کر دیا اور کہا آؤ دعا کریں۔