حیاتِ بقاپوری — Page 45
حیات بقاپوری 45 قرار پایا۔حیات صحیح ناصری علیہ السلام کے ثبوت میں مولوی ابراہیم صاحب وین پر نظم سے یہ استدلال کرنے لگے کہ کوئی اور آدمی مسیح کی شکل وصورت کے مشابہ بنا کر صلیب پر چڑھایا گیا تھا اور حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا لیا تھا۔میں نے اس استدلال کی تردید میں جواب دیا کہ ہر کم سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ خود حضرت عیسی علیہ السلام مشابہ بالمصلوب ہو گئے تھے۔اور انہیں زندہ ہی اُتار لیا گیا تھا۔چنانچہ اس کی تائید دوسری آیت سے ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا: واو تهما إلى تغة ذات قرار و معین (۵۱:۲۳) یعنی صلیب کے واقعہ کے بعد وہ دونوں ماں بیٹا کسی دوسری جگہ چلے گئے۔کیونکہ اؤی کا لفظ کسی مصیبت سے نجات کے لیے آتا ہے چنانچہ اس اونٹا ھما کی تفسیر حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں فرمائی ہوئی اللہ إلی عیسی ان جیسی انکل من مكان إلى مكان اللا تعرف فخوذ یکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ تو اب کسی دوسری جگہ چلا جاتا کہ دشمن تجھے پہچان کر دوبارہ پکڑ نہ لیں اور پھر تیری ایذا دہی کے در پے نہ ہوں۔مولوی محمد ابراہیم صاحب نے مجھ سے حدیث کا حوالہ مانگا اور عام لوگ کہنے لگے کہ اگر یہ حدیث نکل آئے تو ہماری تسلی ہو جائے گی۔میں نے کہا کنز العمال کی دوسری جلد میں ہے۔انہوں نے صفحہ اور سطر کا حوالہ مانگا۔میں نے کہا کہ بعد میں لکھ دوں گا۔انہوں نے کہا کتاب میرے پاس سات جلدوں میں موجود ہے ابھی منگواتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے اپنا شاگرد بھیجا کہ دوسری جلد لے آئے۔مجھے صفحہ اور سطر یاد نہ تھی لیکن خدا تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور ایک دوست کی نشان دہی پر عسل مصفی سے حوالہ کا پتہ مل گیا اور میں نے اصل حوالہ نکال کر لوگوں کو دکھایا جس کا کافی اثر ہوا اور ایک خاندان وفات مسیح کا قائل ہو گیا۔دوسری تائید الہی اس طرح ہوئی کہ مولوی محمد ابراہیم صاحب نے حیات مسیح ناصری علیہ السلام کی تائید میں دان من أهل الكتب الا لو منن به قبل مؤیتہ (۱۲۰:۴) کی آیت پڑھ کر کہا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا زمانہ آئے گا کہ جب مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس زمانہ کے سب یہود اُن پر ایمان لائیں گے کیونکہ ابھی سب یہوداُن پر ایمان نہیں لائے اس لیے وہ زندہ ہیں۔میں نے کہا مولوی صاحب ! جو اہل کتاب یہودی اور عیسائی انیس سو سال سے مر رہے ہیں یہ لوگ کیسے ایمان لائیں گے۔کیا اُس وقت ان سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟ اس پر بجائے اس کے کہ مولوی صاحب کچھ جواب دیتے انہوں نے تفسیر بیضادی میرے پاس بھیج دی کہ اسے پڑھ لو اس