حیاتِ بقاپوری — Page 339
حیات بقاپوری 339 تقویٰ کے خلاف سمجھا ہے۔کیونکہ اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ مجھے خود وہاں جانے کی آرزو ہے۔یہ چھوٹا سا واقعہ ہے مگر شیتہ اللہ کے علاوہ مرکزی احکامات کی اطاعت بھی ظاہر کرتا ہے۔اطاعت ، تعاون اور وفاداری: مرکزی احکامات کی اطاعت اور اس سے تعاون اور وفاداری کا اظہار بھی انہوں نے جس عملی رنگ میں کیا ہے وہ میرے لیے کم خوش کن نہیں ہے۔دفتر کا کوئی حکم ان کے نام ایسا نہیں پہنچا جس کی انہوں نے اطاعت نہ کی ہو۔علاقہ سے باہر اپنی نقل و حرکت بجو صریح اجازت کے ہر گز نہیں کی حتی کہ اپنی لائق اور قابل بیٹی کی مرض الموت میں وہ کراچی میں تھے۔بعض پرائیوٹ خطوط ان کو متواتر لکھے گئے اور لڑکی کی حالت سے روزانہ اطلاع دی جاتی رہی لیکن چونکہ ابھی تھوڑا ہی عرصہ ان کو قادیان سے واپس گئے ہوا تھا اس لیے انہوں نے واپسی کیلیے درخواست کرنے میں حجاب ہی محسوس کیا اور آخر جب لڑکی کی نازک حالت دیکھ کر میری اجازت سے انہیں تار دیا گیا تو پھر کراچی شہر سے اپنے مرکز روہڑی میں آکر تبلیغ کے متعلق مناسب ہدایات دے کر اور ایک رات وہاں ٹھہر کر اس وقت قادیان پہنچے جب کہ مرحومہ کا جنازہ گھر سے لے جایا جا چکا تھا اور صرف ان کی انتظار ہورہی تھی۔تعاون و وفاداری کی یہ روح ہے کہ چند دن ہوئے کہ بوجہ علالت و بغرض علاج انہوں نے چند یوم کے لیے واپس آنے کی اجازت طلب کی۔آمد و رفت کے اخراجات اور مالی مشکلات کی وجہ سے ان کو لکھا گیا کہ آپ ایثار کریں اور اس وقت رخصت نہ لیں۔وہاں ہی ٹھہر کر علاج کرائیں۔اس پر انہوں نے نہایت ہی خوشی سے اپنی رخصت کی درخواست واپس لے لی۔علاقہ میں رسوخ : ایک مبلغ کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں اس وقت تک بہت سی دشواریاں پیش آنے کا اندیشہ ہوتا ہے جب تک خاص و عام میں اس کا رسوخ نہ ہو۔مولوی صاحب کا رسوخ نہ صرف احمد یوں تک ہی محدود تھا بلکہ وہ عامتہ الناس کے علاوہ غیر احمدیوں کے تعلیم یافتہ اور ذی اثر طبقہ میں بھی وقعت کی نظر سے دیکھے جاتے رہے ہیں۔چنانچہ وہ غیر احمدی احباب اور اسلامیہ انجمنیں جو پہلے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ شدید اختلاف رکھتی اور بات سنتا گوارا نہ کرتی تھیں۔مولوی صاحب کے حسن سلوک اور حسن اخلاق اور رسوخ کی وجہ سے اب سلسلہ کی مداح ہیں بلکہ ہمارے مبلغوں کو خود اخراجات دے کر بلاتی ہیں (حال ہی میں ایک اسلامیہ انجمن نے اپنے جلسہ میں مولوی صاحب کو اپنا