حیاتِ بقاپوری — Page 303
حیات بقا پوری 303 حضرت خلیفہ اسی اول کا انتقال پر ملال اور مسلہ خلافت کے متعلق اختلافات: حضرت خلیفہ اول کے انتقال سے جو صدمہ جماعت احمدیہ کو پہنچا وہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے صدمہ سے کم نہ تھا۔کیونکہ مخالفین یہ سمجھتے تھے کہ یہ سارا انتظام مولوی نورالدین صاحب کی وجہ سے تھا۔مولوی صاحب کی قابلیت کی وجہ سے سلسلہ کا کام چل رہا تھا۔اب آپ کے فوت ہونے پر یہ سلسلہ (نعوذ باللہ) ختم ہو جائے گا۔اور جماعت کے جو بڑے بڑے لوگ تھے اُن کو ایک خفیہ ٹریکٹ کی وجہ سے جو مولوی محمد علی صاحب کا لکھ کر بھجوایا ہوا تھا ابتلاء آ گیا۔اور میں نے دیکھا کہ لوگ نماز جمعہ پڑھتے ہی نواب صاحب کی کوٹھی کی طرف چلے گئے اور مولوی محمد علی صاحب نے بحیثیت سیکرٹری ہونے کے اپنے موافق دوستوں کو تاریں دلوا دیں اور صاحبزادہ صاحب نے بھی بعض مناسب جماعتوں کو تاریں بھیجوائیں۔عصر کی نماز پڑھانے کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے ایک مختصر تقریر کی جس میں آپ نے فرمایا کہ یہ دن احمد یہ جماعت کے لیے مصیبت اور ابتلا ء کا دن ہے۔احباب کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر رات بھر دعا کریں اور صبح کو روزہ رکھ کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ منصب خلافت کے لیے اُس شخص کو چھٹے اور اُس شخص کو کھڑا کرے جو اس سلسلہ کے لیے مفید اور بابرکت ہو اور اس کی رضا کی راہ پر چلنے چلانے والا ہو وغیرہ۔لوگوں میں ایک ہیجان سا تھا اور غم کا ایک پہاڑ گر پڑا تھا۔لوگ روتے تھے اور اپنے اپنے مذاق کے مطابق بعض میں سرگوشیاں بھی ہونے لگیں۔یہ تقریر کرنے کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب جنگل کی طرف تشریف لے گئے۔آپ کو جاتے ہوئے دیکھ کر مولوی محمد علی صاحب آپ کے پیچھے دوڑے اور آواز دے کر کھڑا کر لیا۔دونوں نے وہاں کچھ دیر تک باتیں کیں۔پھر رات کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے نواب محمد علی خان صاحب ، میر ناصر نواب صاحب اور صاحبزادگان کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس بات پر راضی ہو جا ئیں کہ مولوی محمد علی صاحب ہمارے خلیفہ ہو جائیں تو میں اُن کی بیعت کرلوں گا۔آپ بھی کر لیں تا کہ جماعت کا اتحاد قائم رہے۔گو ہم اس خبر کو سن کر مولوی محمد علی صاحب کی طبیعت کو جانتے ہوئے نہیں چاہتے تھے کہ مولوی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کریں۔لیکن چونکہ ہم جماعت انصار اللہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے ماتحت دینی کام کرتے تھے اس واسطے ہم بھی اس بات پر راضی ہو گئے۔غرض اس طرح رات بھر دعائیں کرتے رہے۔صبح روزہ رکھا اور دعاؤں میں مشغول ہو گئے۔حضرت