حیاتِ بقاپوری — Page 29
حیات بقا پوری 29 29 نہیں لے جا سکتا مگر یہ کہ محض خدا کے لیے ہو جاوے اور فن ان صلاتي ونسكي وقيايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۱۲۳:۲) کا سچا مصداق بن جاوے تب مسلمان کہلائے گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح صادق اور وفادار بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔جس طرح وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو گئے۔اسی طرح انسان ساری دنیا کی خواہشوں اور آرزؤں کو جب تک قربان نہیں کر دیتا کچھ نہیں ملتا۔میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو ایک کشش اور جذبہ پیدا ہو جائے اُس وقت اللہ تعالیٰ اس کا خود متکفل اور کارساز ہو جاتا ہے۔اللہ تعالی پر بھی بدظنی نہیں کرنی چاہیے۔اگر نقص اور خرابی ہوگی تو تم میں ہوگی۔پس یاد رکھو کہ جب تک انسان خدا کا نہ ہو جائے بات نہیں بنتی۔اور جو شخص اللہ تعالٰی کے لیے ہو جاتا ہے اس میں شتاب کاری نہیں رہتی۔مشکل یہی ہے کہ لوگ جلد گھبرا جاتے ہیں اور پھر شکوہ کرنے لگتے ہیں۔خاکسار:۔ابتدائی منزل اس مقصد کے حصول کی کیا ہے؟ حضرت اقدس:۔ابتدائی منزل یہی ہے کہ جسم کو اسلام کا تابع کرے۔جسم ایسی چیز ہے کہ جو ہر طرف لگ سکتا ہے۔بتاؤ زمینداروں کو کون سکھاتا ہے کہ موسم گرما کی سخت دھوپ میں باہر جا کر کام کرتے ہیں اور سخت سردیوں میں آدھی آدھی رات کو اٹھ کر باہر جاتے اور ہل چلاتے ہیں۔پس جسم کو جس طریق پر لگاؤ اُسی طریق پر لگ جاتا ہے۔ہاں اس کے لیے ضرورت ہے عزم کی۔کہتے ہیں ایک بادشاہ مٹی کھایا کرتا تھا بہت تجویزیں کیں لیکن وہ مٹی کھانے سے نہ رک سکا۔آخر ایک طبیب آیا اور اُس نے دعوی کیا کہ میں اس کو مٹی کھانے سے روک دوں گا۔چنانچہ اس نے بادشاہ کومخاطب کرکے کہا یا ایھا الملك امين عام الملوک یعنی اے بادشاہ وہ بادشاہوں والا عزم کہاں گیا؟ یہ سنکر بادشاہ نے کہا اب میں مٹی نہ کھاؤں گا۔پس عزم مومن بھی تو کوئی چیز ہے۔خاکسار: عزم کرنے والے ہوتے تو پھر حضور کی کیا ضرورت تھی؟ حضرت اقدس :۔آپ لوگوں کے نفوس صافیہ نے مجھے مبعوث کیا ہے۔بات یہ ہے کہ جب نفوس صافیہ کا جذ بہ ظاہر ہوتا ہے تو ممد و معاون بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔صحابہ کے دل پاک تھے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے رسول بھی پیدا کر دیا۔ایسا ہی کہتے ہیں کہ مکہ سے جو مدینہ کی طرف آپ نے ہجرت کی اس میں یہ ستر تھا کہ وہاں اصلاح پذیر قلوب کا ایک جذبہ تھا۔تمام شد