حیاتِ بقاپوری — Page 246
حیات بقا پوری جوہر کے پانی کا استعمال جائز ہے مگر مجبوری نہیں :۔246 قادیان کے اردگر نشیب زمین میں بارش اور سیلاب کا پانی جمع ہو کر ایک جو ہر سا بن جاتا ہے۔جس کو یہاں ڈھاب کہتے ہیں۔جن ایام میں یہ نشیب زمین (ساری یا اس کا کچھ حصہ ) خشک ہوتی ہے تو گاؤں کے لوگ اس کو رفع حاجت کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس میں بہت سی نا پا کی جمع ہو جاتی ہے۔جو سیلاب کے پانی کے ساتھ مل جاتی ہے۔آج صبح حضرت اقدس بمعہ خدام جب باہر سیر کے واسطے تشریف لے گئے۔تو اس ڈھاب کے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا پانی گاؤں کی صحت کیلئے مضر ہوتا ہے۔پھر فرمایا۔اس پانی میں بہت سا گند شامل ہو جاتا ہے اور اس کے استعمال سے کراہت آتی ہے۔اگر چہ فقہ کے مطابق اس سے وضو کر لینا جائز ہے کیونکہ فقہاء کے مقرر کر وہ وہ دردہ سے زیادہ ہے۔تاہم اگر کوئی شخص جس نے اس میں گندگی پڑتی دیکھی ہو اگر اس کے استعمال سے کراہت کرے تو اس کے واسطے مجبوری نہیں کہ خواہ مخواہ اس سے یہ پانی استعمال کرایا جائے۔جیسا کہ گوہ کا کھانا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز رکھا ہے۔مگر خود کھانا پسند نہیں فرمایا۔یہ اسی طرح کی بات ہے جیسا کہ شیخ سعدی نے فرمایا ہے۔سعد یا حب وطن گرچه حدیث است درست نتواں مرد به سختی کہ دریں جا زادم (بدر ۲۶ ستمبر ۱۹۰۷ء)۔بدامنی کی جگہ پر احمدی کیا کریں:۔سرحد کے پار علاقہ جات سے ایک جگہ سے چند احمدیوں کا ایک خط حضرت کی خدمت میں پہنچا۔کہ اس جگہ بدامنی ہے۔لوگ آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں کوئی پرسان نہیں۔چند ماں ہم کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔کیا آپ کی اجازت ہے کہ ہم بھی اُن کو قتل کرنے کی کوشش کریں؟ حضرت نے فرمایا کہ ایسا مت کرو۔ہر طرح سے اپنی حفاظت کرو لیکن خود کسی پر حملہ نہ کرو۔تکالیف اٹھاؤ۔اور صبر کرو۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ تمہارے لئے کوئی انتظام احسن کر دے۔جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے۔خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔( بدر ۲۶ ستمبر ۱۹۵۷ء)