حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 229 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 229

حیات بقاپوری 229 ۱۳ تراویح :- ایک شخص نے سوال کیا کہ ماہ صیام میں نماز تراویح با جماعت سونے سے پہلے پڑھنی چاہیے یا پچھلی رات اُٹھ کر ا کیلے گھر میں پڑھنی چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز تراویح کوئی جدا نماز نہیں۔دراصل نماز تہجد کی آٹھ رکعت کو اول وقت میں پڑھنے کا نام تراویح ہے۔اور یہ ہر دونوں صورتیں جائز ہیں جو سوال میں بیان کی گئی ہیں۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ہر دو طرح پڑھی ہیں۔لیکن اکثر عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر تھا کہ آپ پچھلی رات کو گھر میں اکیلے یہ نماز پڑھتے تھے۔۱۴۔تراویح کی رکعات:- (دیکھو اخبار بدر ۲۶ دسمبر ۱۹۹۷ء) تراویح کے متعلق عرض کیا گیا کہ جب یہ تہجد ہے تو ہمیں رکعت پڑھنے کی نسبت کیا ارشاد ہے کیونکہ تہجد تو مع وتر گیارہ یا تیرہ رکعت ہیں۔فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت داگی تو وہی آٹھ رکعتیں ہیں جو آپ تہجد کے وقت ہی پڑھا کرتے تھے۔اور یہی افضل ہے۔مگر پہلی رات بھی پڑھ لینا جائز ہے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ نے رات کے پہلے حصہ میں آٹھ رکعت نماز پڑھی۔بیس رکعت بعد میں پڑھی گئیں۔(دیکھو بدر ۲ فروری ۱۹۰۸ء) نوٹ : یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز تراویح اول وقت میں پڑھنی بھی سنت ہے۔اس کا ذکر حدیث کی کتاب ترمذی شریف میں آتا ہے۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رات متواتر اول رات نماز تراویح مسجد میں پڑھائی۔جب چوتھی رات کو لوگ آئے تو آپ نماز پڑھانے کے لئے باہر تشریف نہ لائے۔اور صبح بعد نماز فجر فرمایا کہ میں اس لئے نہیں آیا تھا کہ تا تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے عمل ہوتا آیا ہے۔کہ مسجد اقصیٰ میں عشاء کی نماز کے بعد آٹھ رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھی جاتی رہی ہے۔اور جو سحری کے وقت پڑھتے وہ اپنے گھر میں پڑھتے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسجد مبارک میں نماز تراویح با جماعت سحری سے پہلے پڑھی جاتی اور حضرت خلیفہ اول بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔خلافت ثانیہ میں بھی مسجد مبارک میں آدھی رات کے وقت یعنی سحری سے پہلے نماز تراویح یا جماعت پڑھی جاتی رہی ہے۔اس سے ناظرین سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ جو آج کل فرقہ اہل حدیث کہتے ہیں کہ اول وقت نماز تراویح با جماعت پڑھنی