حیاتِ بقاپوری — Page 219
حیات بقاپوری 219 ہوتا ہے کہ حضور کسی دوسرے سے چاپی کرانا پسند نہیں فرماتے۔اس سے میرے دل میں بڑی خوشی ہے اور سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ حضور کا خاص تعلق ہے۔اسی حالت میں میری آنکھ کھل گئی۔۱۹۰ - ۱۰ - دسمبر ۱۹۵۳ء کا الہام جو حیات بقا پوری جلد اول ص ۲۱۰ پر شائع ہو چکا ہے۔کہ میں جب نیند سے بیدار ہوا تو زبان پر جاری تھا، پچیچہ چونچہ بچپن چھین )۔اس وقت تواس کے متعلق کوئی تفہیم نہیں ہوئی تھی۔مگر بعد میں واقعات کی رو سے الہام کی حقیقت کا انکشاف یوں ہوا کہ ۱۹۵۵ء میں جب حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بسلسلہ بیماری علاج کے لئے یورپ تشریف لیگئے ، تو حضور کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھا کر باغیان خلافت نے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دی۔اور واپس تشریف لانے پر حضور نے ۱۹۵۶ء میں اس فتنہ کی آگ کو بجھا دیا جو اندر ہی اندر سلگ رہی تھی۔اور ان فتنہ پردازوں کو جماعت سے خارج فرما کر اس رستے ہوئے ناسور کے زہر سے جماعت کو پاک و مصفا کر دیا۔نوٹ: حصہ اول میں اسکی تاریخ ۱۰ دسمبر س 190 ء ہے۔مرتب)