حیاتِ بقاپوری — Page 122
122 حیات بقاپوری - میں کوئی تناقص واقع نہیں ہوا۔پس یہی حال لا نبی بعدی اور عیسیٰ نبی اللہ کا ہے۔پھر غور فرمائیے اسیح حدیثوں میں آیا ہے لو عاش ابراهيم لكان صديقاً نبيا يعنى اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔اور یہ ارشاد آپ کا نزول آیت خاتم النبیین کے بعد ہے۔پس با وجود خاتم النبیین کی آیت کے اپنے بیٹے کی نسبت یہ فرمانا کہ وہ زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔کیا صاف اور بین دلیل اس بات کی نہیں ہے۔کہ نفس نبوت کی نفی نہیں کی گئی۔ورنہ ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ ہی کریم صلعم نے ایک خلاف واقعہ بات بیان فرمائی، جو حضور اکرم کی شان کے منافی ہے۔حديث: لم يبق من النبوة الا المبشرات: لم يبق من النبوۃ الا المبشرات سے کیا مراد ہے؟ اور مبشرات کو نبوت از روئے احادیث کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس حدیث کے یہ معنے کرنا کہ ہر ایک طرح کی نبوت باقی نہیں رہی، غلط ہے۔کیونکہ مبشرات خود ایک قسم کی نبوت ہے۔دوم لم یبق نفی محمد ہے۔جو انکار ماضی کے لئے آتا ہے۔تو کیا جب نبی کریم صلعم نے یہ ارشاد فرمایا تھا تو اس کے بعد آپ بھی سوائے مبشرات کے اور کسی نبوت کے حامل نہ رہے تھے؟ ضرور آپ اس حدیث میں کوئی مقدر مانیں گے۔یعنی لم یبقی کی تاویل لا یبقی اور من النبوۃ سے من بعدی وغیرہ نکالیں گے۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ ہمارے معتقدات میں سے ہے کہ نبی کریم صلعم تمام عمر ہی نبوت کا ملہ اور شریعت تامہ کے حامل رہے ہیں۔اس واسطے یہ تاویل کی گئی اور مقد رمانا پڑا۔اسی طرح ہمارے معتقدات میں سے ہے کہ مسیح موعود نبی اللہ ہوگا۔پس اس حدیث میں یہ پہلی غلطی ہے جو آپ لوگوں کو لگی ہے۔یعنی ایک اعتقاد کے لئے حذف مانا جاتا ہے اور دوسرے کیلئے نہیں۔اور دوسری غلطی یہ ہے کہ المبشرات کو ثبوت کا جزو اس لئے سمجھتے ہیں کہ وہ النبوہ کا مستقلی واقع ہوا ہے۔حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی مستی مستی منہ کا جزو ہی ہوا کرے۔جس سے اس پر مستقلی منہ کا اطلاق ہی نہ ہو سکے۔خاص کر یہاں تو اس طرح کا جزو ہو ہی نہیں سکتا۔کیونکہ ابن ماجہ میں یہ حدیث یوں آئی ہے: لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة یعنی نبوت مبشرات سے رویا صالحہ باقی ہیں۔اور صحیح بخاری میں ہے: قالواما المبشرات قال الرؤيا الصالحة صحابہ نے عرض کیا مبشرات کیا چیز ہیں تو نبی کریم صلعم نے فرمایا مبشرات رویا صالحہ ہیں۔جب نبی کریم صلعم کے ارشاد کے بموجب مبشرات اور رویا صالحہ ایک چیز ہوئی۔اور پھر حدیث ابن ماجہ میں مستقلی (الرؤيا الصالحته) کے مستقلی منہ (مبشرات ) واقع ہونے سے عبارت غلط نہیں ہوتی ، بلکہ صحیح رہتی ہے۔تو اسی طرح اگر النبوة اور المبشرات صورت استثناء میں آجائیں تو اُن کے بھی معافی نہیں بگڑیں گے۔اب دیکھئے آپ کے معنے سے (کہ مبشرات اور النبوۃ کو جزو کل کی نسبت ہے یہ خرابی لازم آتی ہے کہ