حیاتِ بقاپوری — Page 357
حیات بقاپوری 357 میری عبادت اور ریاضت کیا چیز ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کا اسوہ حسنہ اختیار کرنے کے لیے ہمیں حکم ہے اُن کے تو عبادت کرتے کرتے پاؤں بھی سوج جایا کرتے تھے۔مولوی صاحب اب بھی باوجود بوڑھا ہو جانے کے نوجوانوں والی ہمت رکھتے ہیں اور شب بیداری کو پہلے کی طرح نہیں لیکن بدستور نوافل کے لیے نماز صبح سے ۳-۴ گھنٹہ پہلے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر اپنے مقررہ وظیفہ سے فارغ ہو کر کچھ آرام کرتے ہیں۔اور اگر طبیعت اچھی ہو تو مسجد میں جماعت کے ساتھ ورنہ گھر پر نماز ادا کرتے ہیں اور اس کے بعد تلاوت قرآن مجید یہی اُن کا معمول ہے۔مولوی صاحب لین دین کے معاملات میں بہت کھرے ہیں۔اگر کبھی قرض کی ضرورت پڑے تو وقت سے پہلے ادا ئیگی کا فکر رکھتے ہیں اور شکایت کا موقعہ پیدا نہیں ہونے دیتے۔ہاؤس ٹیکس اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی وغیرہ کے سلسلہ میں ہمیشہ یہی نصیحت کرتے ہیں کہ وقت سے پہلے ادا کیا کرو۔اور معمولی داد دستند بھی مانگنے سے پہلے ادا کر دیتے ہیں۔اگر کسی مزدور سے مزدوری کراتے ہیں تو دو چار پیسے زیادہ ہی دیتے ہیں۔گھر کے کام کاج میں ہمیشہ ہاتھ بٹاتے اور اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔معمولی سوال کو برا جانتے ہیں۔جب پانی پینے کی ضرورت ہو تو خود اُٹھ کر پی لیں گے۔اگر کہا جائے کہ ہمیں کہہ دیتے تو جواب دیتے ہیں جتنی دیر تم کو کہوں گا تو اس سے جلدی میں خود پی لوں گا۔گھر کی ضروریات بلکہ معمولی ضروریات کا بھی پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔صفائی پسند ہیں اور حتی الوسع متعلقین کو راحت و آرام پہنچانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور انکی تکلیف کے ازالہ کی ہر ممکن کوشش عمل میں لاتے ہیں۔اولاد کی تربیت کا خاص خیال رکھتے ہیں اور کسی کام میں مشورہ کی ضرورت ہو تو پھر سب چھوٹے بڑے بچوں کو شامل کر لیتے ہیں۔اگر کہا جائے کہ چھوٹوں کی شمولیت کی کیا ضرورت ہے تو کہتے ہیں کہ اس سے بچوں میں بہادری ، جرات اور خود اعتمادی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔آپ بچوں سے زیادہ تر بڑوں والی باتیں کرتے ہیں تا کہ انکے حوصلے بلند اور ہمتیں قوی ہوں۔آپ بچوں پر بار بار غصہ نہیں ہوتے۔اگر تربیت کے خیال سے سزا دینی ہو تو ایسے طریقے سے دیں گے جس سے بچہ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ مجھے نا جائز طور پر سزا نہیں ملی بلکہ واقعی طور پر میں اس کا مستحق تھا۔اس لیے اسے اصلاح کرنے اور آئندہ اس غلطی سے بچنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔آپ رقیق القلب اور نرم دل انسان ہیں۔اگر کسی سے ناراضگی ہو جائے تو جلد ہی اسے گلے لگالیتے ہیں۔شرعی احکام کے پابند اور حضرت اقدس